بنگلہ دیش کے وزیرِ اعظم طارق رحمان نے منصب سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں ملائیشیا سے لیبر مارکیٹ دوبارہ کھولنے اور بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کوالالمپور میں ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، لیبر مائیگریشن، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، حلال معیشت اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں طارق رحمان نے کہا کہ انہوں نے ملائیشیا کے وزیرِ اعظم سے درخواست کی ہے کہ مزید بنگلہ دیشی کارکنوں کو بھرتی کیا جائے اور لیبر مارکیٹ جلد از جلد کھولی جائے۔
ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق ،انہوں نے ملائیشیا میں موجود غیر دستاویزی بنگلہ دیشی کارکنوں کو قانونی حیثیت دینے اور حراست میں موجود بنگلہ دیشی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا۔
دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ مستقبل میں لیبر بھرتی کا عمل شفاف، منصفانہ اور کم خرچ ہونا چاہیے تاکہ درمیانی ایجنٹوں کے کردار کو کم کیا جا سکے اور کارکنوں کو استحصال سے بچایا جا سکے۔
ملاقات میں بنگلہ دیش، ملائیشیا آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات آگے بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ دونوں حکومتوں نے امید ظاہر کی کہ 2027 تک ایک جامع معاہدہ مکمل کیا جا سکتا ہے۔
ملائیشیا نے بنگلہ دیش کی آر سی ای پی، یعنی دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی انتظام، میں شمولیت کی خواہش کی حمایت بھی کی۔ بنگلہ دیش نے آسیان کا سیکٹورل ڈائیلاگ پارٹنر بننے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔
بات چیت میں مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، ڈیجیٹل گورننس، فن ٹیک اور سائبر سکیورٹی جیسے جدید شعبوں پر بھی توجہ دی گئی۔ بنگلہ دیش نے ہنرمندی کے مشترکہ پروگرامز کی تجویز دی تاکہ انجینئرنگ گریجویٹس کو اعلیٰ قدر والی صنعتوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔
تعلیم کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس وقت تقریباً 11 ہزار بنگلہ دیشی طلبہ ملائیشیا میں زیرِ تعلیم ہیں۔
حلال معیشت بھی مذاکرات کا اہم حصہ رہی۔ دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ ملائیشیا کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بنگلہ دیش اپنی حلال صنعت، سرٹیفکیشن نظام اور عالمی منڈی تک رسائی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
علاقائی امور پر طارق رحمان نے روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے ملائیشیا کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور میانمار میں ان کی محفوظ، باوقار اور پائیدار واپسی کے لیے عالمی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔
دورے کے دوران ثقافتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جبکہ سرمایہ کاری کے فروغ اور انسدادِ دہشت گردی تعاون سے متعلق دستاویزات کا تبادلہ بھی ہوا۔