گوگل میپ کو پھانسی دے دیں

بلوچستان میں کراچی سے آئی ایک فیملی کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا ہے وہ تو المناک ہے ہی، اس پر ہونے والے تجزیے اس حادثے سے بھی زیادہ المناک اور دردناک ہیں۔

ہر طرف شور مچا ہے اور اس شور میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ ساری لعن طعن گوگل میپ کو کی جا رہی ہے۔ گوگل میپ نے راستہ غلط بتا دیا، گوگل میپ کی وجہ سے خاندان مارا گیا، گوگل میپ کی وجہ سے خاندان غلط سڑک پر چلا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ گوگل میپ نے ایک خاندان کی جان لے لی، گوگل میپ پر بھروسہ نہ کریں، خبردار! گوگل میپ آپ کی جان لے سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ اور وغیرہ۔

الفاظ کو چبا چبا کر لمبے لمبے تجزیے ہو رہے ہیں، ساتھ گرافکس کی مدد سے بتایا جا رہا ہے کہ گوگل میپ کتنا نامعقول، ناقابل بھروسہ اور بے ہودہ ہے۔ انتہائی ماہرانہ انداز میں رہنمائی کی جا رہی ہے کہ گوگل میپ کس پَرلے درجے کا ناقابلِ اعتماد ہے اور اس پر بھروسہ کرنا کتنا خطر ناک ہو سکتا ہے۔

میں یہ ساری چاند ماری دیکھ رہا ہوں اور میں حیران ہوں کہ اس معاشرے اور اس کے اہلِ فکر و دانش کو کس ابلیس نے چھو لیا ہے کہ یہ کسی حادثے پر درست تجزیہ کرنے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے اس خاندان کو قتل نہ کیا گیا ہو بلکہ گوگل میپ کی وجہ سے یہ کسی کھائی میں جا کر گر گیا ہو، اس لیے اب ذمہ دار صرف گوگل ہے۔

کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ قاتل کون ہے۔ کسی کے پیشِ نظر یہ سوال نہیں ہے کہ بلوچستان میں جن عناصر نے بندوق اٹھائی ہے، ان کے مقاصد کیا ہیں۔ کوئی اس پر غور نہیں کر رہا کہ قانون کہاں ہے۔ کسی کو اس کی پریشانی نہیں ہے کہ صوبائی انتظامیہ کہاں سو رہی ہے۔ کوئی اس پر بے قرار نہیں ہے کہ دہشت گردوں کی مختلف حیلوں بہانوں سے سہولت کاری کرنے والے دانشور کہاں ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کرنے والی صوبائی حکومت اور اس کا وزیراعلیٰ کہاں ہے۔ کسی کے پیشِ نظر یہ سوال نہیں ہے کہ وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے۔ کسی کو یہ پریشانی دامن گیر نہیں کہ صوبہ کب تک ان دہشت گردوں کے حوالے رہے گا۔

یہ سوال کہیں نہیں اٹھایا جا رہا کہ ان دہشت گردوں کے خلاف جب کارروائی ہوتی ہے تو سیاست اور صحافت کے اندر ان کے ملامتی، عذرخواہ جو شور مچاتے ہیں، وہ سب اب گونگے شیطان کیوں بن گئے ہیں۔ ان کی انسان دوستی کچھ خاص مواقع پر ہی کیوں جاگتی ہے۔ وہ صرف ریاست ہی کو کیوں سینگوں پر لیتے ہیں۔

کتنا آسان اور کتنا کریہہ منظر نامہ ہے کہ سارے سوالات نظر بس سارا ملبہ گوگل میپ پر ڈال دیا جائے۔ جو کہنے والی بات تھی وہ کہی نہیں جا رہی، جو نہ کہنے والی بات تھی وہ تکرار کے ساتھ بیان کی جا رہی ہے۔ جو اصل مسئلہ ہے، ادھر آنکھیں بند کی جا رہی ہیں اور جو بالکل ایک فروعی چیز ہے، وہاں لمبے لمبے دیوان لکھے جا رہے ہیں۔

اس رویے کا نفسیاتی مطالعہ بہت ضروری ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہماری سوسائٹی میں اہلِ فکر و دانش نے بلوچستان کے اندر قتل و غارت کو ایک معمول کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بلوچستان میں کسی دوسرے صوبے سے گئے آدمی کا قتل ہو جانا، یہ ایک معمول کی بات ہے۔ یعنی یہ وہاں کا نیو نارمل ہے۔ اس لیے ان کے پیشِ نظر سوال یہ نہیں ہے کہ فیملی پر حملہ کیوں ہوا اور فیملی پر حملہ کرنے والا کون ہے، فیملی کو قتل کیوں کیا گیا، بلکہ ان کے پیشِ نظر سوال صرف یہ ہے کہ گوگل میپ نے غلط راستہ بتا دیا۔ یعنی یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ بلوچستان ایک مقتل ہے۔ اب اس مقتل میں جو کچھ ہوا ہے، وہ ان کے نزدیک معمول کی بات ہے، فطری بات ہے اور قصوروار تو اصل میں گوگل میپ ہے جس نے ان کو مقتل کا راستہ دکھایا ہے۔

ہمارے ہاں چونکہ کبھی سماجیات کو بطورِ مضمون دیکھا ہی نہیں گیا، اسے کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں گیا، اس لیے ہم ان معاملات سے بے نیاز رہتے ہیں۔ لیکن اگر سماجیات کو اس معاشرے میں سنجیدگی سے لیا جاتا تو معلوم ہوتا کہ یہ تجزیوں والا المیہ، وقوعے کے المیے سے کم سنگین نہیں ہے۔

یہ دل دہلا دینے والا ایک سانحہ ہے، بچوں کی کیفیت دیکھیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے لیکن اس سانحے کے ذمہ داروں کے بارے کوئی سوال نہیں اٹھایا جا رہا اور اس کے محرکات پر بات نہیں ہو رہی۔ بس یاروں کے ہاتھ گوگل میپ لگ گیا ہے اسی کی کمر لال اور ہری کی جا رہی ہے۔

بلوچستان میں جاری دہشت گردی، پاکستانی میڈیا میں بیٹھے ان دہشت گردوں کے ملامتی رضاکار، پاکستانی سیاست دانوں کے اندر بیٹھے ان دہشت گردوں کے عذر خواہ، ان کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھایا جا رہا۔ حکومت کی عدم فعالیت کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھایا جا رہا۔ کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ شام کے بعد بلوچستان میں حکومت کی رٹ ہوتی ہے یا دہشت گردوں کی رٹ ہوتی ہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ شام کے بعد اگر بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں دہشت گردوں کی رٹ ہوتی ہے تو پھر ان کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟ سب نے گوگل میپ کو اوندھے منہ لٹایا ہوا اور سب کے ہاتھ میں پاپولزم کا کوڑا ہے۔

اب اگر سارا زور اس بات پر ہے کہ گوگل میپ نے راستہ بھٹکا دیا اور گوگل میپ کی وجہ سے فیملی ماری گئی تو سوال یہ ہے اس گوگل میپ کے ساتھ کیا کریں؟ کیوں نہ دہشت گردوں کی بجائے گوگل میپ کو ہی پھانسی دے دیں؟ گوگل میپ کو پھانسی دینے پر وہ سینئر اینکر، کالم نگار، صحافی اور سیاست دان بھی کم از کم نہیں تڑپیں گے جو فتنہ گروں کے خلاف کارروائی پر درد کی شدت سے بلبلا اٹھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں