وسطی ایشیا قدرتی وسائل سے مالا مال اور پاکستان کے لیے بے پناہ اقتصادی مواقعے کا حامل ہے بلکہ خطے میں معاشی اور تجارتی ر ابطوں کو بھی نئی سمت دے سکتی ہیں۔از بکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کا مقصد ازبکستان اور پاکستان کے در میان براہ راست ریلوے کے ذریعے رابطہ بنانا ہے، جو افغانستان سے گزرے گا۔ اس منصوبے کا مقصد 573 کلومیٹر طویل ریل رابطہ قائم کر کے تجارت کو بڑھانا ہے جو تاشقند، کابل اور پشاور کو جوڑے گااور پاکستان اور وسطی ایشیا کے مابین تجارتی تعلقات کو تقویت ملے گی۔اس اقدام سے ازبکستان اور پاکستان کے درمیان کارگو کی فراہمی کے اوقات کو تقریباًپانچ دن کی مسافت تک نمایاں طور پر کم کرناہے۔ یہ ریلوے روٹ افغانستان میں ترمذ، مزار شریف اور لوگر سے گزرے گا جب کہ پاکستان کے ضلع کرم میں خر لاچی بارڈر کراسنگ تک جائے گا۔
وسطی ایشیا قدرتی وسائل سے مالا مال اور پاکستان کے لیے بے پناہ اقتصادی مواقع کاحامل ہے۔ پاک بھارت کشیدگی سے سرخرو ہونے کے بعد کچھ عرصہ پہلے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت اعلیٰ حکام کا ترکیہ، ایران، آذر بائیجان اور تاجکستان کا سرکاری دورہ انتہائی اہم حیثیت اختیار کر گیا تھا اور ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات میں ایران نے خطے میں امن قائم کرنے کی غرض سے دو طرفہ تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری بڑھانے کا اعادہ بھی کیا گیا تھا جبکہ پاکستان کو وسطی ایشیا سے تجارت کا گیٹ وے کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان کا محل وقوع ایسا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین، وسطی ایشیا اور مشرق وسطی آکر ملتے ہیں جب کہ جنوب میں بحر ہند کاوسیع سمندر ہے جو چین اور مشرق بعید سے مشرق وسطی، افریقہ اور یورپ کے درمیان اہم تجارتی راستوں کی گزرگاہ ہے۔ بحر ہند کی سمندری گزرگاہوں سے توانائی سے مالا مال وسطی ایشیائی ریاستوں تک جانے کے لیے کوئی سمندری ساحل اور بندرگاہ نہیں ہے، واحد زمینی راستہ ایران کے علاوہ پاکستان سے گزر کر جاتا ہے۔ پاکستان سے گزرنے والا یہ راستہ زیادہ تر میدانی اور ہموار ہونے کے با عث آئیڈیل راستہ ہے جب کہ ایران سے جا نے والا راستہ زیادہ تر پہاڑی اور ناہموار ہے۔
یہ جغرافیائی حقیقت پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ایک دلکش کنجی بنا دیتی ہے۔ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک چین، ایران اور افغانستان کے علاوہ دیگر ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بالعموم اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بالخصوص تجارتی و دفاعی اور عسکری شعبوں میں قابل ذکر تعاون بڑھا سکتے ہیں۔پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے جسے قدرت نے غیر معمولی جغرافیائی اہمیت عطا کی ہے۔ شمال میں بلند و بالا پہاڑی سلسلے، جنوب میں بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی اور مشرق و مغرب میں اہم علاقائی ریاستوں کی موجودگی پاکستان کو بین الاقوامی تجارت کے لیے ایک قدرتی راہداری بناتی ہے۔ تاریخی طور پر برصغیر، مشرق وسطیٰ، چین اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی قافلے اسی خطے سے گزرتے رہے ہیں۔ 1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد وسطی ایشیا میں پانچ آزاد ریاستیں وجود میں آئیں: قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور کرغیزستان۔ ان ممالک کو عالمی تجارت میں آزادانہ شرکت کا موقع ملا تو پاکستان نے بھی ان کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کیے۔ مشترکہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی روابط کی وجہ سے پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود تھے۔
آذربائیجان نے 31 دسمبر 2027 تک پاکستانی چاول پر عائد کردہ کسٹم ڈیوٹی کو استثنی قرار دے رکھا ہے۔ یہ استثنی پاکستان کے لیے بڑا ریلیف ہے، اگر چہ اس ٹیکس چھوٹ کے باوجود پاکستان کی چاول برآمدات آذربائیجان کی کل درآمدات کا محض 4 فیصد ہے۔ قازقستان کی معیشت اس خطے کی بڑی معیشت ہے جہاں 370 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری ہو سکتی ہے جبکہ قازقستان کے معدنی وسائل میں شامل کوئلہ، کرومائیٹ اور زنک کا ذخیرہ دنیا کا دوسرا بڑا ذخیرہ سمجھا جاتا ہے۔ قازقستان قدرتی گیس سے بھی مالا مال ہے۔ا یران سے ہم سستے داموں تیل، لوہا، اسٹیل، چمڑا، شیشہ تازہ سبزیاں اور پھل درآمد جب کہ گندم اور چاول برآمد کر سکتے ہیں۔ گندم اورچاول کی مصنوعات ہم ترکیہ کو بھی برآمد کر سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء وسطی ایشیا اور مشرق وسطی کے چوراہے پر پاکستان کا تزویراتی محل وقوع بلاشبہ اسے رابطے اور تجارتی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے اچھی پوزیشن رکھتا ہے، جوپاکستان اور خطے کے لیے اسٹرٹیجک اہمیت کے مرکز کے طور پر امکان پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے اور رابطوں میں اضافہ سے جو وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کو فروغ دے سکتا ہے جبکہ پاکستان، چین، کرغیز جمہوریہ اورقازقستان نے 9 مارچ 1995 کو چہار فریقی ٹریفک اور ٹرانزٹ معاہدے (کیوٹی ٹی اے) دستخط بھی کر چکے ہیں۔ یہ چین، پاکستان، کرغیزستان اور قازقستان کے درمیان ٹرانزٹ ٹریفک اور تجارت کو آسان بنانے کے لیے ایک ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ ہے۔ یہ وسطی ایشیا اور بحیرہ عرب میں پاکستان کی گوادر بندرگاہ کے درمیان ایک موثر رابطہ نیٹ ورک فراہم کرتا ہے۔ چین نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا اور اس خطے کے ساتھ اس کی تجارت تقریباً 100 بلین امریکی ڈالر ہے۔
ہماری بد قسمتی ہے کہ افغانستان میں مسلسل جنگ، عدم استحکام اور شدت پسندی کی وجہ سے پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان زمینی تجارت اپنی حقیقی استعداد کے مطابق فروغ نہ پاسکے۔ 11 ستمبر 2001ء کے بعد افغانستان میں نئی سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور بین الاقوامی حمایت سے قائم ہونے والی حکومت نے خطے میں آمد و رفت اور تجارت کے لیے نسبتاً بہتر ماحول پیدا کیا۔ اس دوران پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور متعدد تجارتی قافلے افغانستان کے راستے اپنی منزل تک پہنچنے لگے۔ 2021ء میں افغانستان میں دوبارہ سیاسی تبدیلی کے بعد کچھ عرصے کے لیے علاقائی تجارت متاثر ہوئی، تاہم خطے کی اقتصادی ضروریات نے مختلف ممالک کو دوبارہ تجارتی روابط برقرار رکھنے پر آمادہ کیا۔ اس کے باوجود افغانستان میں سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز نے پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھا۔
وسطی ایشیا تقریباً 80 ملین سے زائد آبادی پر مشتمل ایک اہم خطہ ہے۔ یہ خطہ تیل، گیس، یورینیم، سونا، کاپر اور دیگر معدنی وسائل سے مالا مال ہے، تاہم تمام ریاستیں سمندر سے محروم (Landlocked) ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے بیرونی راہداریوں کی ضرورت رہتی ہے۔پاکستان کی بندرگاہیں، خصوصاً کراچی بندرگاہ اور گوادر بندرگاہ، وسطی ایشیائی ممالک کو گرم پانیوں تک مختصر ترین رسائی فراہم کر سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو وسطی ایشیا اور بحیرہ عرب کے درمیان ایک قدرتی پل کی حیثیت حاصل ہے۔تاہم اگر افغانستان کے راستے تجارت میں مشکلات پیدا ہوں تو پاکستان کے پاس دو متبادل زمینی راستے موجود ہیں: پہلا، ایران اور ترکمانستان کا راستہ،اس راستے میں پاکستان سے ایران(تافتان بارڈر)، پھر ترکمانستان(لطف آباد بارڈر) اور وہاں سے ازبکستان یا دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ یہ راستہ نسبتاً طویل ہے لیکن افغانستان کے مقابلے میں بعض اوقات زیادہ مستحکم سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا، چین کا راستہ، چین کے ساتھ پاکستان کی شاہراہِ قراقرم اور سی پیک کے منصوبے شمالی رابطوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ چین کے سنکیانگ علاقے کے ذریعے، کاشغر سے ہوتے ہوئے کرغیزستان، قازقستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی ممکن ہے۔ مستقبل میں یہ راستہ پاکستان اور وسطی ایشیاء کے درمیان تجارت کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا ہے جبکہ کرغیزستان بارڈربراستہ چین (خنجراب)1,050 تا 1,150 کلومیٹر، قازقستان بارڈربراستہ چین1,600 تا 1,800 کلومیٹر، کرغیزستان بارڈربراستہ افغانستان1185 تا 1250 کلومیٹر، قازقستان بارڈربراستہ افغانستان1,800 تا 1,900 کلومیٹر، تاجکستان بارڈربراستہ افغانستان700 تا 800 کلومیٹر، ازبکستان بارڈربراستہ افغانستان700 تا 800 کلومیٹرہے۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیاء تک رسائی سب سے مختصر اور معاشی طور پر سب سے زیادہ موزوں راستہ ہے۔ خصوصاً تاجکستان اور ازبکستان، پاکستان کے قریب ترین وسطی ایشیائی ممالک ہیں جبکہ پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے علاقائی امن، سرحدی استحکام اور بہتر سفارتی تعلقات ناگزیر ہیں۔
اگر پاکستان، افغانستان، چین، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک مشترکہ اقتصادی مفادات کو ترجیح دیں تو یہ خطہ عالمی تجارت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔ گوادر بندرگاہ، سی پیک، ریلوے روابط اور علاقائی توانائی منصوبے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اگر پاکستان اور افغانستان کے موجودہ حالات اپنی سیکیورٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں تو پاکستان اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے وسطی ایشیاء کے لیے بحیرہ عرب کا قدرتی دروازہ بن سکتا ہے اور افغانستان کے راستے مختصر ترین زمینی رابطہ میسر آتا ہے، جبکہ ایران اور چین متبادل تجارتی راہداریوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مستقبل میں اگر علاقائی استحکام اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے تو پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان تجارت نہ صرف دونوں خطوں کی معیشت کو مضبوط بنائے گی بلکہ پورے ایشیا میں اقتصادی انضمام اور خوشحالی کا نیا باب بھی کھول سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سی پیک کے منصوبوں کو جلداز جلد مکمل کر کے پاکستان کے لیے اقتصادی راہداری کو ایران اور ترکیہ کے تیل اور گیس کی فرا ہمی بجلی پیداوار اور ترسیل، تجارتی نقل وحمل، بندرگا ہوں اور جہاز رانی کے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کریں۔ ایشیا کے دیگر ممالک جو پاکستان کی طرح بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزی کا خطرہ محسوس کر سکتے ہیں۔ جیسے سری لنکا، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، میانمار کے ساتھ دوستانہ لقات کو استوار کریں۔ باہمی تعاون اور اشتراک کے امکانات کو فروغ دیں۔ قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان کر غیزستان اور تاجکستان توانائی، زراعت اورمعدنیات کے وسائل سے مالا مال ہیں اورپاکستان ان کے لیے ایک اہم تجارتی اور ٹرانزٹ مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ سی پیک اور ٹرانس افغان ریلوے جیسے منصوبے بہتررابطوں اور تجارت میں سہولت فراہم کر سکتے ں۔ وسطی ایشیا کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات کو فروغ دے کر پاکستان اپنے اقتصادی چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے، روایتی منڈیوں پر انحصار کم کر سکتا ہے اور ترقی کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔