امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی دولت میں گزشتہ ایک سال کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایک نئی مالیاتی رپورٹ کے مطابق ان کی مجموعی آمدن کم از کم 2.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 2024 میں صدارتی انتخاب جیتنے سے قبل یہ تقریباً 62 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔ اس طرح ایک سال میں ان کی دولت میں تقریباً 1.58 ارب ڈالر، یعنی 254 فیصد اضافہ ہوا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تاریخ میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے، کیونکہ ماضی کے صدور عموماً اپنے ذاتی کاروباری مفادات کو حکومتی معاملات سے الگ رکھتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ خاندان نے انتخابی کامیابی اور وائٹ ہاؤس واپسی کے دوران کئی نئے کاروباری منصوبے شروع کیے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی بعض حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں سے انہی کاروباروں کو مالی فائدہ پہنچا جن میں ان کے خاندان کے مفادات موجود تھے۔
مالیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ان کے خاندان کا کرپٹو کرنسی سے متعلق کاروبار رہا۔
رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 میں، حلف برداری سے چند روز قبل، ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرمپ ڈالر کے نام سے ایک میم کوائن متعارف کرایا، جس سے انہیں تقریباً 63 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی آمدن ہوئی۔
اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر میں صدر ٹرمپ نے دنیا کی بڑی کرپٹو ایکسچینج بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ کو صدارتی معافی دی۔ بائنانس ٹرمپ خاندان کے کرپٹو منصوبوں کی کاروباری شراکت دار بھی ہے۔
مزید برآں جولائی میں صدر ٹرمپ نے اسٹیبل کوائنز سے متعلق ایک قانون پر دستخط کیے، جس کا مقصد اس شعبے کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس قانون سے چند ماہ قبل ہی ٹرمپ خاندان اپنی کمپنی کے ذریعے ایک اسٹیبل کوائن متعارف کرا چکا تھا۔
کرپٹو کاروبار کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ خاندان نے سعودی عرب، ویتنام اور رومانیہ سمیت مختلف ممالک میں رئیل اسٹیٹ منصوبوں سے بھی کروڑوں ڈالر کمائے۔ ناقدین کا دعویٰ ہے کہ ان منصوبوں میں بھی حکومتی اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھایا گیا، تاہم اس حوالے سے ٹرمپ یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے رپورٹ میں بیان کیے گئے الزامات پر کوئی ردِعمل شامل نہیں۔