دہشت گردی کے بدلتے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون بڑھایا جائے، بنگلہ دیش کا مطالبہ

بنگلہ دیش نے دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون مزید مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں بنگلہ دیش کے مستقل مندوب سفیر صلاح الدین نعمان چودھری نے جنرل اسمبلی میں عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی پر بحث کے دوران اپنا مؤقف پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ مصنوعی ذہانت، انکرپٹڈ کمیونیکیشنز، ورچول ایسٹس اور دیگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا استعمال بڑھا رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر نئے چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔

بنگلہ دیشی سفیر نے کہا کہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے، قانونی تعاون، ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال اور مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کی ہر شکل کے خلاف بنگلہ دیش کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کیا۔

سفیر صلاح الدین نعمان چودھری نے کہا کہ بنگلہ دیش کے پاس دہشت گردی اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے جامع قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک موجود ہے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان قریبی رابطہ کاری کے ذریعے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیشی نمائندے نے زور دیا کہ انسدادِ دہشت گردی اقدامات قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے احترام کے مطابق ہونے چاہئیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے دہشت گردی کی بنیادی وجوہات، اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں