ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جہاں ایران نے آبنائے ہرمز میں دو غیر ملکی جہازوں کو قبضے میں لے لیا اور ایک تیسرے پر فائرنگ کی ہے۔ ادھر ایرانی حکام نے امن مذاکرات میں تعطل کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران “مذاکرات اور معاہدہ” چاہتا ہے، تاہم ان کے مطابق “وعدوں کی خلاف ورزی، ناکہ بندی اور دھمکیاں” بات چیت میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، اس وقت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔ انہوں نے امریکی اقدام کو جنگ بندی کی “کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق دو غیر ملکی جہازوں کو قبضے میں لیا گیا جبکہ ایک تیسرے جہاز پر اس لیے فائرنگ کی گئی کیونکہ وہ مقررہ پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی۔ ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق اس حوالے سے فیصلہ صدر خود کریں گے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی کے دوران اب تک 31 جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا ہے۔ اس ناکہ بندی میں ہزاروں فوجی، متعدد جنگی جہاز اور طیارے شامل ہیں۔
ادھر مشرقِ وسطیٰ میں دیگر محاذوں پر بھی کشیدگی برقرار ہے۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک خاتون صحافی امل خلیل بھی شامل ہیں، جبکہ ایک اور صحافی زخمی ہوئی ہیں۔ یہ حملے ایک نازک جنگ بندی کے باوجود کیے گئے۔
غزہ میں بھی اسرائیلی کارروائیوں میں پانچ فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں، جن میں تین بچے شامل ہیں۔
آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تیل کی ترسیل اور معیشت پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بحالی فی الحال غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔