ایران نے بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر فائرنگ کی اور ان میں سے دو کو اپنے قبضے میں لے لیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی برقرار رکھتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع کی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دو جہازوں کو ایران منتقل کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کیونکہ جہاز امریکی یا اسرائیلی نہیں تھے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے ہونے والی تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔ امن کے زمانے میں دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے دنیا بھر میں ایندھن اور اشیائے ضروریہ مہنگی ہو رہی ہیں۔
یورپی یونین کے توانائی کمشنر ڈین یورگنسن نے خبردار کیا ہے کہ اس بحران کے اثرات طویل عرصے تک رہ سکتے ہیں اور یورپ کو روزانہ کروڑوں یورو کا نقصان ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، وہ کسی نئے مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔
ادھر لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے جہاں اسرائیلی حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حملے ایک نازک جنگ بندی کے دوران ہوئے، جسے بڑھانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔