آبی گزرگاہوں پر عالمی طاقتوں کی کشمکش: جب ’سویز کنال تنازعے‘ نے 1956 میں طاقت کا توازن بدل دیا تھا

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس اہم سمندری راستے سے دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تاہم موجودہ حالات میں یہاں جہاز رانی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال کا موازنہ 1956 کے ’سویز کنال تنازعے‘ سے کیا جاسکتا ہے، جب ایک اہم آبی گزرگاہ کی بندش نے دنیا بھر کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

اس بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب مصر کے صدر جمال عبد الناصر نے سویز کنال کو قومی تحویل میں لے لیا۔ اس سے پہلے یہ نہر برطانیہ اور فرانس کے زیرِ اثر ایک کمپنی کے کنٹرول میں تھی۔ اس فیصلے کے بعد برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مصر پر حملہ کیا، جسے ’سویز وار‘ کہا جاتا ہے۔

اس وقت سویز کنال یورپ کے لیے تیل اور تجارت کی سب سے مختصر اور اہم سمندری گزرگاہ تھی۔ مشرقِ وسطیٰ سے یورپ جانے والا زیادہ تر تیل اسی راستے سے گزرتا تھا، اور اس کی بندش کا مطلب تھا کہ جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل سفر کرنا پڑتا تھا، جس سے وقت اور لاگت دونوں میں اضافہ ہو جاتا تھا۔

اکتوبر 1956 میں شروع ہونے والی لڑائی کے بعد یہ راستہ کئی ماہ تک بند رہا اور مارچ 1957 میں امریکہ، سوویت یونین اور اقوامِ متحدہ کی مداخلت کے بعد برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کو واپس جانے پر مجبور ہونا پڑا۔

بحیرہ احمر سے بحیرہ روم کو ملانے والی یہ نہر فرعون کے دور (1849 تا 1887 قبل مسیح) میں کھو دی گئی۔ تاہم اس کو جدید نہر کی شکل 1869 میں دی گئی تھی۔

معاشی اور اسٹریٹجک لحاظ سے اس بحران کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کی اہمیت مزید اجاگر ہوئی، جبکہ یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ اہم آبی راستوں پر کنٹرول عالمی سیاست کو براہِ راست متاثر کر سکتا ہے۔

اس واقعے کے بعد عالمی سیاست میں ایک نیا نظام ابھرا جس میں دنیا دو بڑی طاقتوں، امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان تقسیم ہوتی گئی۔ یوں عالمی طاقت کا مرکز یورپ سے ہٹ کر ان دو سپر پاورز کے گرد مرکوز ہو گیا۔

آج آبنائے ہرمز کی صورتحال میں بھی اسی نوعیت کی مماثلتیں دیکھی جا رہی ہیں۔ ایک اہم عالمی راستہ خطرے میں ہے، تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے اور بڑی طاقتیں آمنے سامنے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ آج دنیا توانائی کے معاملے میں پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے پر انحصار کرتی ہے، اس لیے کسی بھی رکاوٹ کے اثرات زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اور عالمی تجارت میں سست روی جیسے اثرات تو نمایاں ہیں، لیکن کیا عالمی طاقتوں کے توازن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے؟

اپنا تبصرہ لکھیں