ازبکستان نے کرپٹو کرنسی کی کان کنی کے لیے ایک خصوصی معاشی زون قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جہاں کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدن پر 2035 تک ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی۔
یہ فیصلہ صدر شوکت مرزائیوف کے ایک حکم نامے کے تحت کیا گیا ہے۔ اس نئے منصوبے کو ’’بیسکالا مائننگ ویلی‘‘ کا نام دیا گیا ہے، جو ملک کے خودمختار علاقے کرکالپاکستان میں قائم کیا جائے گا، جو شمال مغربی ازبکستان میں واقع ہے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور کرپٹو کان کنی میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں کان کنی کے منصوبے مختلف قابلِ تجدید توانائی ذرائع سے بجلی حاصل کر سکیں گے۔ یہاں کے رہائشی اپنی کان کنی سے حاصل ہونے والی کرپٹو کرنسی کو ملکی یا غیر ملکی تبادلہ مارکیٹوں میں فروخت کر سکیں گے، تاہم اس آمدن کو ازبکستان کے بینکنگ نظام کے ذریعے منتقل کرنا لازمی ہوگا۔
نئے قواعد کے مطابق صرف وہی قانونی ادارے اس زون میں ٹیکس چھوٹ کے اہل ہوں گے جو قراقلپاقستان میں رجسٹرڈ اور فعال ہوں گے۔ کان کنی کے اجازت نامے قومی منصوبہ جاتی ایجنسی جاری کرے گی، جبکہ اس خصوصی زون کے انتظام کے لیے ایک علیحدہ ادارہ بھی قائم کیا جائے گا۔
زون کے رہائشیوں کو اپنی ماہانہ آمدن کا صرف ایک فیصد انتظامی ادارے کو ادا کرنا ہوگا، جو قراقلپاقستان کے مقامی بجٹ میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مالی جرائم کی روک تھام کے لیے سخت مالیاتی نگرانی اور قوانین پر عمل درآمد بھی لازمی ہوگا۔
یہ فیصلہ اس سے پہلے ازبکستان کی سخت پالیسی میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل ملک میں کرپٹو کان کنی صرف شمسی توانائی تک محدود تھی۔