امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران جنگ بندی میں رات گئے توسیع کا اعلان کیا ہے۔

"اس کی کوئی اہمیت نہیں”، امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے بعد ایران کا رد عمل

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی قیادت کسی مشترکہ تجویز پر متفق نہیں ہو جاتی۔

اس سے پہلے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کا دورہ طے تھا، مگر اسے ملتوی کر دیا گیا۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق ایران نے امریکی مؤقف کا جواب نہیں دیا۔

ایران کی جانب سے اس اعلان کو اہمیت نہیں دی گئی۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مشیر مہدی محمدی نے کہا کہ اس توسیع کی کوئی حیثیت نہیں۔

ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کی جانب سے سمندری راستوں پر پابندی کو جنگی قدم قرار دیا ہے۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود یہ پابندی برقرار رہے گی۔

دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر۔ اس کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے اور کئی جہازوں کو راستہ بدلنا پڑا ہے۔

ادھر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود جھڑپوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں