ظہران ممدانی کون ہیں اور وہ کیا چاہتے ہیں؟

ظہران ممدانی 1990 کی دہائی میں یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ نیویارک منتقل ہوگئے۔ 2018 میں انہوں نے امریکی شہریت حاصل کی۔ ان کی والدہ معروف فلم ساز میرا نائر ہیں جبکہ والد محمود ممدانی کولمبیا یونیورسٹی میں استاد اور سیاسی مبصر ہیں۔ سیاست میں آنے سے قبل ممدانی کم آمدنی والے افراد کے لیے ہاؤسنگ کاؤنسلر کے طور پر کام کرتے رہے، اور 2021 میں کوئنز کے ڈسٹرکٹ 36 سے ریاستی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

میئر کے عہدے کے لیے ان کی انتخابی مہم بنیادی طور پر رہائش، نقل و حمل اور روزگار جیسے عوامی مسائل کے گرد گھومتی رہی۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ نیویارک کو زیادہ قابلِ برداشت اور محفوظ شہر بنائیں گے، اگرچہ ان کے کئی منصوبے روایتی پالیسیوں سے کافی مختلف ہیں۔ رہائش کے بڑھتے اخراجات ممدانی کے ایجنڈے کا مرکزی نکتہ ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ کرایہ داروں کے تحفظ کے لیے چار سالہ کرایہ فریز نافذ کریں گے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں ہر چار میں سے ایک شخص غربت میں جی رہا ہے اور پانچ لاکھ بچے بھوکے سوتے ہیں۔ ہمیں اس شہر کو وہی بنانا ہے جو کبھی تھا ۔ تاہم، رئیل اسٹیٹ ماہرین نے اس پالیسی کو عمارتوں کے مالکان کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

اپنی مہم کے دوران ممدانی نے شہری سہولتوں اور فلاحی منصوبوں کو بھی ترجیح دی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ شہر میں سرکاری ملکیت والے گروسری اسٹورز کا نیٹ ورک قائم کریں گے تاکہ خوراک سستی ہو، پبلک بسوں کا سفر مفت کیا جائے اور چائلڈ کیئر کے اخراجات کم کیے جائیں تاکہ نوجوان خاندان شہر چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں۔ ناقدین کے مطابق ان کے یہ منصوبے مالی طور پر غیر حقیقت پسندانہ ہیں، تاہم ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عام شہری کے لیے حقیقی ریلیف فراہم کریں گے۔

عوامی تحفظ کے حوالے سے ممدانی نے ایک نیا محکمہ ڈیپارٹمنٹ آف کمیونٹی سیفٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو ذہنی صحت کے ماہرین پر مشتمل ہوگا۔ اس محکمے کے تحت بعض ہنگامی کالز کا جواب پولیس کے بجائے سماجی کارکن دیں گے۔ ان کے ریپبلکن مخالف کرٹس سلیوا نے اس منصوبے کو خطرناک قرار دیا ہے، مگر ممدانی کا مؤقف ہے کہ تشدد کے بجائے ہمدردی اور فہم کے ذریعے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممدانی کو “کمیونسٹ” قرار دیتے ہوئے ان پر سخت تنقید کی ہے اور وفاقی فنڈز روکنے کی دھمکی دی ہے۔ فتح کے موقع پر ظہران ممدانی نے انہیں براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا، “ڈونلڈ ٹرمپ، اگر آپ سن رہے ہیں تو آواز اونچی کر لیں، ہمیں پہنچنے سے پہلے آپ کو سب سے گزرنا ہوگا۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں