نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کے آغاز میں ہی ایک بڑے تنازعے کو جنم دے دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد خواجہ سراؤں کو امریکا کی مسلح افواج اور تعلیمی اداروں سے نکالنے کے انتظامی احکامات پر دستخط کریں گے۔ ایریزونا کے شہر فینکس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی سرکاری پالیسی صرف دو صنفوں، مرد اور عورت، کو تسلیم کرے گی اور مردوں کو خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے سے روکنے کا عزم رکھتی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ بچوں کے جنسی استحصال کو ختم کرنا اور خواجہ سراؤں کے فوج اور سکولوں سے اخراج کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایل جی بی ٹی کیو حقوق کے حوالے سے اپنی ریپبلکن پارٹی کے سخت مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات امریکی اقدار کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے تارکین وطن کے جرائم کے خلاف سخت کارروائی، منشیات کے کارٹلز کو دہشت گرد گروپ قرار دینے، اور ملک میں امن و خوشحالی کا نیا دور شروع کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت یوکرین کی جنگ ختم کرے گی، مشرق وسطیٰ کی افراتفری پر قابو پائے گی، اور تیسری عالمی جنگ کے خطرے کو ٹالے گی۔
یہ بیان سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچانے کا سبب بن گیا ہے، جہاں خواجہ سراؤں کے حقوق اور آزادی کے حوالے سے پہلے ہی شدید اختلافات موجود ہیں۔