ترکیہ نے دفاعی شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے اپنا پہلا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ استنبول میں منعقد ہونے والی ‘ساہا 2026’ بین الاقوامی دفاعی و ایرو اسپیس نمائش کے دوران اس میزائل کو پیش کیا گیا۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس نئے میزائل کا نام ‘یلدرم ہان’ رکھا گیا ہے۔ اس میزائل کی رینج تقریباً 6 ہزار کلومیٹر ہے، جس کے باعث یہ یورپ، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور وسطی ایشیا کے وسیع علاقوں تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ترک حکام کے مطابق، یہ میزائل 3 ہزار کلوگرام تک وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ اس کی رفتار ماخ 9 سے ماخ 25 تک جا سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ میزائل مائع ایندھن سے چلنے والے چار راکٹ انجنوں پر مشتمل ہے اور اسے ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے تحقیقاتی و ترقیاتی مرکز نے تیار کیا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق، یہ میزائل ابھی ابتدائی یا پروٹو ٹائپ مرحلے میں ہو سکتا ہے، جبکہ اس کے مکمل فلائٹ ٹیسٹ سے متعلق تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ تاہم اس کی نمائش کو ترکیہ کی دفاعی صنعت کی تیز رفتار ترقی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
ترکیہ اس سے پہلے بھی ‘طوفان’، ‘بورا’ اور ‘ہان’ جیسے میزائل نظام متعارف کرا چکا ہے، لیکن بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کی سطح پر یہ اس کا پہلا منصوبہ ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے ترکیہ کو ایک آزاد اسٹریٹجک طاقت کے طور پر مزید تقویت مل سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود اپنی دفاعی پالیسی میں زیادہ خودمختاری پر زور دے رہا ہے۔
ترک وزارتِ دفاع نے اس منصوبے کو ‘اہم فورس ملٹی پلائر’ قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی رکھنے والے ممالک دنیا میں بہت کم ہیں، جن میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس، بھارت، اسرائیل اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ ایسے میں ترکیہ کا یہ قدم عالمی دفاعی توازن اور خطے کی سیاست پر اثر ڈال سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترکیہ کی دفاعی صنعت گزشتہ چند برسوں میں ڈرونز، فضائی دفاعی نظام، میزائل ٹیکنالوجی اور خلائی منصوبوں میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جسے صدر رجب طیب ایردوان کی دفاعی خودمختاری کی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔