امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں ہونے والے 2026 کے فٹبال عالمی کپ سے قبل ویزا پابندیوں، درخواستوں کا مسترد ہونااور ایران کے خلاف جاری جنگ نے کئی ممالک کے شائقین کو پریشان کر دیا ہے، جس کے باعث ٹورنامنٹ میں شرکت کے خواہش مند افراد کی تعداد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایران نے گزشتہ سال فٹبال عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا، تاہم ایرانی قومی ٹیم اور اس کے حامیوں کو اس وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب امریکہ نے ایرانی شہریوں کے لیے ویزوں کے اجرا پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے علاوہ ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایرانی شائقین کا کہنا ہے کہ امریکہ جانا پہلے ہی آسان نہیں تھا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست سفارتی تعلقات اور فضائی روابط موجود نہیں ہیں۔ اب ویزا پابندیوں اور جنگی حالات نے سفر کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔
جنگ کے اثرات کھیلوں کے میدان تک بھی پہنچے ہیں۔ ایرانی قومی ٹیم نے بعض مواقع پر جنگ میں متاثر ہونے والے بچوں اور شہریوں سے اظہارِ یکجہتی بھی کیا، جبکہ کئی کھلاڑیوں کے مستقبل پر بھی سیاسی حالات کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
صرف ایرانی شائقین ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے فٹبال مداح بھی امریکہ میں ہونے والے عالمی کپ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض شائقین کا کہنا ہے کہ سیاسی کشیدگی اور جنگی ماحول کھیلوں کی اس عالمی تقریب کے اصل مقصد کو متاثر کر رہا ہے، جو مختلف قوموں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے منعقد کی جاتی ہے۔
ویزوں کو مسترد کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ امریکہ نے ٹکٹ خریدنے والے شائقین کے لیے ویزا انٹرویو کا خصوصی نظام متعارف کرایا ہے، لیکن اس کے باوجود ویزا ملنے کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔ گزشتہ ماہ گھانا کے تقریباً 150 فٹبال شائقین کی ویزا درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں۔
متعدد ممالک کے شہریوں کو امریکی ویزا حاصل کرنے کے لیے بھاری فیس ادا کرنا پڑتی ہے، جو کئی ترقی پذیر ممالک میں ایک عام شہری کی کئی ماہ کی آمدنی کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا اور میکسیکو کے ویزوں اور سفری اخراجات کا بوجھ بھی الگ ہے۔
کھیلوں کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مختلف ممالک کے شائقین اور ٹیموں کو ویزا اور سفری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے تو عالمی مقابلوں کی وہ روح متاثر ہوتی ہے جس کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنا ہے۔
کئی ماہرین نے تجویز دی ہے کہ مستقبل میں کسی بھی ملک کو عالمی کھیلوں کی میزبانی دینے سے پہلے یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ دنیا بھر کے کھلاڑیوں اور شائقین کو وہاں تک رسائی حاصل ہو سکے۔
ادھر بعض شائقین نے میکسیکو کو نسبتاً آسان اور قابلِ رسائی میزبان قرار دیا ہے، جبکہ کینیڈا بھی ویزا کے معاملے میں امریکہ کے مقابلے میں زیادہ سہولت فراہم کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے کھیلوں کے مقابلے صرف ٹیلی وژن پر دیکھنے سے کامیاب نہیں ہوتے بلکہ ان کی اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب دنیا بھر کے لوگ ان میں عملی طور پر شریک ہو سکیں۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ عالمی کپ کون دیکھ سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس میں حقیقی معنوں میں شرکت کون کر سکتا ہے۔