ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان سمیت 80 سے زائد ممالک کی مصنوعات پر نئے محصولات عائد کر دیے

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 80 سے زائد ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے محصولات نافذ کر دیے ہیں۔

یہ نئے محصولات جمعے کی رات 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ ہوئے اور ان کی جگہ پہلے سے عائد 10 فیصد عالمی محصول ختم ہو گیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکی معیشت اور مقامی صنعتوں کو غیر ملکی مسابقت سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

نئے محصولات 1974 کے تجارتی قانون کی دفعہ 301 کے تحت عائد کیے گئے ہیں۔ اس قانون کے تحت امریکی صدر ان ممالک کے خلاف تجارتی پابندیاں یا محصولات عائد کر سکتے ہیں جو مبینہ طور پر غیر منصفانہ یا امتیازی تجارتی پالیسیوں پر عمل کر رہے ہوں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد ممالک جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر قوانین نافذ نہیں کر رہے، جس سے امریکی کاروباری اداروں کو نقصان پہنچتا ہے۔

کینیڈا اور یورپی یونین سے آنے والی مصنوعات پر 10 فیصد محصول عائد کیا گیا ہے۔ تاہم دونوں کا مؤقف ہے کہ ان کے ہاں جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی سے متعلق قوانین پہلے ہی موجود ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ جبری مشقت کا معاملہ صرف ایک جواز ہے اور اصل مقصد ان محصولات کو دوبارہ نافذ کرنا ہے جنہیں امریکی سپریم کورٹ نے پہلے غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

اس سے قبل امریکی سپریم کورٹ نے فروری میں ہنگامی اختیارات کے تحت نافذ کیے گئے ٹرمپ کے محصولات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تقریباً 160 ارب ڈالر کی رقم واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف تجارتی قوانین کا سہارا لے کر محصولات برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ تاہم ان اقدامات کو بھی عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے۔

نئے محصولات سے تیل، گیس اور بعض قدرتی وسائل کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی بعض مصنوعات اور گاڑیوں، فولاد اور دیگر اشیا پر پہلے سے نافذ قومی سلامتی کے محصولات بھی اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔

امریکی حکومت مزید 15 ممالک اور یورپی یونین کی مصنوعات پر بھی نئے محصولات عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کانگریس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے محصولات نافذ کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے قانونی اختیارات تبدیل ہو سکتے ہیں، لیکن مجموعی تجارتی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔

ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ محصولات اور تجارتی معاہدوں کے ذریعے امریکی صنعتوں کی بحالی، مقامی ملازمتوں کے تحفظ اور تجارتی خسارے میں کمی چاہتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں