بنگلہ دیش کو 2034 تک 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنائیں گے، وزیراعظم طارق رحمان

بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت 2034 تک بنگلادیش کو 1 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

ڈھاکا ٹریبیون کے مطابق جمعرات کو ایف آئی سی سی آئی ایف ڈی آئی سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم طارق رحمان نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے سرمایہ کاری-دوست پالیسیاں اور مضبوط پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بنیادی کردار ادا کریں گی۔

انہوں نے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بنگلہ دیش میں کاروبار شروع کرنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت سرمایہ کاروں کو پالیسی سپورٹ، قانونی تحفظ، ادارہ جاتی تعاون اور مؤثر سرکاری خدمات فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک کاروباری شخص کے طور پر کیا تھا، اور اسی تجربے سے انہیں معلوم ہوا کہ کاروبار کی کامیابی صرف کاروباری صلاحیت یا سیاسی یقین دہانیوں سے نہیں بلکہ ترقی دوست حکومتی پالیسیوں سے بھی جڑی ہوتی ہے۔

طارق رحمان کے مطابق حکومت ایک ایسا سرمایہ کاری ماحول بنانا چاہتی ہے جس کی بنیاد پیش گوئی کے قابل پالیسیوں، قانونی تحفظ اور ریگولیٹری اصلاحات پر ہو۔

انہوں نے کاروباری رہنماؤں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا شکریہ ادا کیا، جو روزگار، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور عالمی سپلائی چینز سے جڑنے کے ذریعے بنگلہ دیش کی معاشی ترقی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ بنگلہ دیش کے پاس تیزی سے بڑھتی ہوئی مقامی مارکیٹ، نوجوان افرادی قوت، اہم جغرافیائی محل وقوع اور عوامی مینڈیٹ رکھنے والی منتخب حکومت موجود ہے۔ ان کے مطابق یہی عوامل بنگلہ دیش کو پائیدار اور شمولیتی خوشحالی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

طارق رحمان نے کہا کہ حکومت کا ہدف نجی شعبے کی قیادت میں ایک قواعد پر مبنی اور عالمی معیشت سے جڑی ہوئی معیشت بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے ہی سرمایہ کاروں، کاروباری چیمبرز، ماہرین معاشیات، ترقیاتی شراکت داروں اور پالیسی سازوں سے مشاورت شروع کر دی تھی۔ ان مشاورتوں میں سرمایہ کاری کے لیے مضبوط قانونی تحفظ، جدید ریگولیٹری نظام، آسان ٹیکس نظام، منافع کی واپسی میں سہولت، مضبوط کیپٹل مارکیٹ اور بہتر انفراسٹرکچر کو اہم ترجیحات قرار دیا گیا۔

وزیراعظم کے مطابق حکومت ان سفارشات پر عمل شروع کر چکی ہے۔ طارق رحمان نے کہا کہ بنگلہ دیش کا مستقبل صرف سرمایہ کاری حاصل کرنے میں نہیں بلکہ دیرپا شراکت داریاں بنانے میں ہے۔ انہوں نے کاروباری رہنماؤں سے کہا کہ وہ بنگلہ دیش کے مستقبل کا حصہ بنیں، تاکہ ایک مضبوط، منصفانہ اور شمولیتی معیشت تعمیر کی جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں