روایتی طور پر دنیا کو سات براعظموں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ایشیا، افریقہ، شمالی امریکا، جنوبی امریکا، یورپ، آسٹریلیا اور انٹارکٹکا۔ تاہم، برطانیہ کی ڈربی یونیورسٹی سے وابستہ ماہر ارضیات ڈاکٹر جارڈن فیتھین نے اپنی حالیہ تحقیق میں اس نظریے کو چیلنج کیا ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں براعظموں کی اصل تعداد چھ ہے، کیونکہ یورپ اور شمالی امریکا کو ایک ہی ارضیاتی اکائی سمجھا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر فیتھین کا کہنا ہے کہ بحرِ اوقیانوس کی گہرائی میں واقع یورپ اور شمالی امریکا کی زمینی پلیٹیں اب بھی آپس میں جڑی ہوئی ہیں، اگرچہ یہ پلیٹیں وقت کے ساتھ الگ ہو رہی ہیں۔ ان کی تحقیق کے مطابق، چونکہ یہ ارضیاتی طور پر مکمل طور پر الگ نہیں ہوئیں، اس لیے تکنیکی بنیاد پر انہیں ایک ہی براعظم کا حصہ شمار کرنا چاہیے۔
یہ نظریہ زمین کی ابتدائی ساخت کے اس مفروضے سے بھی میل کھاتا ہے جس کے مطابق تقریباً 25 کروڑ سال قبل تمام براعظم ایک عظیم الشان زمینی اکائی "پانگیا” کی صورت موجود تھے۔ وقت کے ساتھ، یہ اکائیاں آہستہ آہستہ جدا ہوتی گئیں، اور تقریباً چھ کروڑ سال قبل یورپ اور شمالی امریکا کے درمیان علیحدگی کا عمل شروع ہوا، جو آج بھی جاری ہے۔
ڈاکٹر فیتھین کی تحقیق نے ارضیاتی سائنس اور جغرافیے میں ایک دلچسپ بحث کو جنم دیا ہے، اور ممکن ہے کہ مستقبل میں تعلیمی نصاب اور عام جغرافیائی تفہیم میں اس تحقیق کے اثرات نمایاں ہوں۔