مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں عدم استحکام، یونان کا شامی اور افغان پناہ گزینوں کے کیسز کا ازسرِ نو جائزے کا آغاز

یونان نے شام اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے بعض پناہ گزینوں کے مقدمات دوبارہ کھولنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جس کے تحت اِن افراد کی حیثیت کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور بعض صورتوں میں انہیں اپنے ممالک واپس بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق شام سے تعلق رکھنے والے بشیر، جو 2014 سے یونان میں مقیم ہیں، ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں جنہیں حالیہ مہینوں میں حکام کی جانب سے نوٹس موصول ہوئے ہیں۔ بشیر کو 2015 میں شام کی خانہ جنگی کے باعث پناہ دی گئی تھی، تاہم اب ان سے دوبارہ وضاحت طلب کی گئی ہے کہ وہ یونان میں کیوں رہنا چاہتے ہیں اور شام واپس کیوں نہیں جا سکتے۔

ان کے وکیل کے مطابق اس وقت زیادہ تر ایسے نوٹس شامی اور افغان مردوں کو بھیجے جا رہے ہیں۔ یونانی حکام کا مؤقف ہے کہ شام اور افغانستان میں جنگی حالات میں تبدیلی آنے کے بعد بعض کیسز کا دوبارہ جائزہ لینا ضروری ہے، تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلا کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک اب بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں۔

شام سے تعلق رکھنے والے ایک اور شہری جہاد، جو 2001 سے یونان میں قانونی طور پر مقیم ہیں اور ایک چھوٹی کاروباری دکان چلاتے ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سیاسی خیالات کی وجہ سے شام واپس جانے سے خوفزدہ ہیں۔ ان کے مطابق اگر وہ واپس گئے تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یونان کے وزیرِ مہاجرت تھانوس پلیوریس نے رواں سال فروری میں اعلان کیا تھا کہ ایسے تمام پناہ کے کیسز کا جائزہ لیا جائے گا جن میں قانونی طور پر پناہ کی حیثیت ختم کی جا سکتی ہو۔ گزشتہ سال یونان نے تقریباً 200 افراد کی پناہ کی حیثیت منسوخ کی تھی، جبکہ اس سال مزید درجنوں مقدمات زیرِ غور ہیں۔

یونان نے حالیہ برسوں میں اپنی امیگریشن پالیسی مزید سخت کی ہے۔ گزشتہ سال ایک نیا قانون منظور کیا گیا جس کے تحت ملک چھوڑنے سے انکار کرنے والے افراد کو حراست میں لیا جا سکتا ہے، جبکہ مسترد شدہ پناہ گزینوں کو محدود مدت میں رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

یورپی یونین بھی آئندہ ماہ نئے ’’اسائلم اینڈ مائیگریشن پیکٹ‘‘ پر عمل درآمد شروع کرنے جا رہی ہے، جس کے تحت رکن ممالک کو سرحدی نگرانی اور مسترد شدہ پناہ گزینوں کی واپسی کے معاملات خود سنبھالنے ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اسی تناظر میں یونان سمیت کئی یورپی ممالک پناہ گزینوں سے متعلق اپنی پالیسیوں کو مزید سخت بنا رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق یونان کی تقریباً ایک کروڑ تین لاکھ آبادی میں 9 لاکھ سے زائد قانونی تارکینِ وطن مقیم ہیں، جبکہ ایک لاکھ 37 ہزار سے زیادہ افراد پناہ یا بین الاقوامی تحفظ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یونانی حکومت کو خدشہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں جاری عدم استحکام کے باعث مستقبل میں پناہ گزینوں کی نئی بڑی لہریں یورپ کا رخ کر سکتی ہیں، جس کے پیشِ نظر وہ اپنے امیگریشن نظام کو مزید سخت اور منظم بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں