امریکا اور ایران کے درمیان نئے حملے، کشیدگی میں مزید اضافہ

امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے ہفتے اور اتوار کو جنوبی ایران میں تازہ حملے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے ایک امریکی فوجی ڈرون مار گرائے جانے کے جواب میں کیے گئے، جو امریکی دعوے کے مطابق بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کر رہا تھا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں میں جنوبی ایران کے شہر گورک اور جزیرہ قشم میں ڈرونز سے متعلق ریڈار اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے، جہاں سے ایران کے مواصلاتی مرکز پر امریکی حملہ کیا گیا تھا۔

ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایسے حملے دوبارہ ہوئے تو اس کا مختلف انداز میں جواب دیا جائے گا۔

ادھر کویت کی فوج نے بتایا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے میزائل اور ڈرون حملوں کا مقابلہ کیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ حملے کہاں سے کیے گئے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ حملے دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ بندی یا امن معاہدے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں، جبکہ خلیجی خطے میں عدم استحکام کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں