اس وقت سب سے زیادہ اہم سوال یہی گردش کر رہا ہے کہ کیا پاکستان، ترکیہ یاچین وغیرہ اس جنگ میں ایران کی مدد کر سکتےہیں ؟سوشل میڈیاپر مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں، بہت سی فیک خبریں، فیک ٹوئٹس بھی۔حتیٰ کہ ایک بہت اہم ایرانی جرنیل نے ایسی ہی فیک خبر سے متاثر ہو کر پاکستان کا شکریہ ادا کر دیا کہ پاکستان نے جوابی ایٹمی حملے کی دھمکی اسرائیل کو دی ہے۔حالانکہ یہ فیک خبر تھی۔
بات تلخ مگر سادہ سی ہے۔
ایران اسرائیل جنگ میں کسی مسلمان ملک کےلئےکھل کر ایران کی مدد کرنا آسان نہیں۔
حالت جنگ میں کسی دوست ملک کو اسلحےکی فراہمی یا مالی مدد فراہم کرنا تب ممکن ہوتا ہے جب آپ اس ملک کےباقاعدہ اور اعلانیہ اتحادی ہوں،دونوں ممالک کےدوران ایک دوسرےکی حالت جنگ میں فوجی مدد کرنےکا کوئی معاہدہ موجود ہو۔
یا پھر آپ جس کی مدد کر رہے ہوں، اس کا دشمن یا دوسرا فریق اتنا طاقتور نہ ہو کہ وہ آپ کو نقصان پہنچا سکے۔ پھر یہ بھی کہ سپرپاورز اس دوست ملک کے مقابلے میں موجود فریق کےساتھ نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں مدد کرنا اس سپرپاور کے ساتھ براہ راست مخاصمت، لڑائی اور دشمنی مول لینے کے مترادف ہوتا ہے۔
اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ پاکستان نے دو سال قبل آرمینیا کے مقابلے میں آذربائیجان کی مدد کی اور شاید ہتھیار وغیرہ بھی فراہم کئے۔ دو وجوہات تھیں، ایک تو ترکیہ، جس کے ساتھ پاکستان کےقریبی تعلقات ہیں اور بعض دفاعی امور میں بھی تعاون ہے۔ ترکی کھل کر آذربائیجان کے ساتھ کھڑا تھا۔ پاکستان نے بھی آذربائیجان کی حمایت کی۔ جبکہ دوسرا فیکٹر یہ بھی تھا کہ آرمینیا اتنا طاقتور نہیں تھا کہ پاکستانی مفادات کو نقصان پہنچا سکتا اور امریکہ جیسی سپرپاور اس معاملےسےدور تھی۔
دوسری طرف ایران کے مقابلے میں اسرائیل کے ساتھ نہ صرف امریکہ بلکہ پورا یورپ کھڑا ہے، برطانیہ، فرانس، جرمنی جیسے اہم یورپی ملک پوری طرح اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔ جنگ بھی نہایت شدید ہو رہی ہے۔ ایرانی شہروں پرشدید بمباری جاری ہے۔ نجانے کتنے ممالک کےسیٹلائیٹ ایران پر نظرے گاڑے بیٹھےہیں کہ اسے کہیں سے مدد نہ مل جائے۔
ایسے میں اگر کوئی یہ توقع رکھتا ہے کہ پاکستان کھل کر ایران کی مدد کر پائے گا۔ اسےاسلحہ دےگا ، میزائل یا اینٹی میزائل سسٹم پہنچائے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہےیا پھر شاید ان پیچیدگیوں اور نزاکتوں کو بالکل ہی نہیں جانتا۔ اس وقت تو جو بھی ملک ایران کی عملی مدد کو آئےگا، اسےسر پر کفن باندھ کر آناہوگا۔ پھروہ ان تمام ممالک سے جنگ کےلئےبھی تیار رہے ۔
پاکستان کی طرح ترکی یا کسی دوسرے ملک کے لئےبھی ایسا کرنا آسان نہیں۔
چین مدد کر سکتا ہے کیونکہ وہ خود بھی ایک بڑی عالمی قوت ہے اور چین کسی حد تک امریکی ٹیکنالوجی یا ہتھیاروں کو ٹکردے سکتا ہے۔ یہ کہنا آسان نہیں کہ چینی ہتھیار امریکی ہتھیار کو شکست دےدیں گے، مگریہ ضرورہے کہ مقابلہ سخت ہوگا اور عین ممکن ہے کہ چینی جےپینتیس یا جےٹوئنٹی طیارے امریکی ایف پینتیس کا مقابلہ کر جائیں۔ لڑیں گےبہرحال ضرور۔
چین کا مسئلہ مگر یہ ہے کہ وہ اپنا فوکس معشیت پر رکھےہوئےہے۔ وہ کسی بڑی جنگ میں انوالو ہونے سےگریز کرتا ہے۔ کیونکہ اس وقت ایران کی مدد کرنے کا مقصد ہے کہ چین امریکہ اربوں کھربوں ڈالر کی تجارت ختم ہوجائے، چین پرٹیرف لگ جائیں، یورپ کےساتھ بھی چینی تجارت ختم ہوجائے، براہ راست ٹکرائو اور جنگ کی صورتحال پیدا ہوجائے۔
خود سوچیں کہ چین خواہ مخواہ اتنا بڑا رسک کیوں لےگا؟ ایران اس کا باقاعدہ اتحادی بھی نہیں۔ ایران نےاگر چینی مدد یا ہتھیار لینےتھے تو اس جنگ سےپہلے یہ موقعہ تھا کہ چھپ چھپا کر کچھ لےلیتا۔ آج چین کےلئے جنگ میں کودنا آسان نہیں۔ یہ بہت بڑا رسک ہوگا۔
البتہ یہ ممکن ہے کہ اگر ایرانی ہمت اور مزاحمت کامظاہرہ کریں۔ جنگ طویل کر جائیں۔ رجیم تبدیل نہ ہوسکے، ایران کےاندر سے دشمن کی طرف سے ہونے والی سازشیں دم توڑ جائیں ۔ ایران اسرائیلی اور ممکنہ طور پر امریکی بمباری بھی سہہ جائے۔ تب یہ ممکن ہے کہ ڈھکےچھپے انداز میں ایران کو چین کی طرف سے کچھ مدد مل جائے، ممکن ہےپاکستان بھی تھوڑا بہت کر سکے۔ ترکی بھی یہ تو چاہے گا کہ ایران میں پرواسرائیل حکومت نہ آئے۔ ممکن ہے ترکیہ بھی تھوڑی بہت مدد کر جائے۔
یہ سب مگر اعلانیہ نہیں ہوگا، ڈھکےچھپے انداز میں ہوگا اور تب ہوگا جب ایران جنگ طویل کرنےکےقابل ہوا۔ سردست کوئی بھی ملک مدد کرنےکی اعلانیہ پوزیشن میں نہیں۔
ایران کے لئے ایک آپشن یہ ہے کہ وہ نیوکلیئر ڈیل کے لئے فوری رضامند ہوجائے۔ جو مذاکرات کچھ دن پہلےناکام ہوگئےتھے،( کاش ایران امریکی ہٹ دھرمی کےباوجود خود تھوڑا مزید پیچھےہٹ کر انہیں کامیاب کرا دیتا )۔ بہرحال نیو کلیئر ڈیل پر آج بھی بات ہوسکتی ہے، مگر ایران کو فیس سیونگ ملنا آسان نہیں۔ اسےپیچھےہٹنا پڑے گا یعنی پیچھےہٹنےکا تاثر دینا ہی پڑےگا۔ یادرہے کہ اسرائیل کبھی یہ نہیں چاہےگا کہ ایران ڈیل کر کے بچی کچھی قوت بچا لے ۔ وہ تو اسےملیا میٹ کرنا چاہتا ہے۔
ایرانی قیادت کے پاس دوسری آپشن مزاحمت کی ہے، تادم مرگ مزاحمت۔ جیسی کہ حماس کےرہنماؤں نے غزہ میں دکھائی۔ اب اس انتہائی مزاحمت کی طرف اگر ایرانی گئےتو پھر ان کو سوٹ کرتا ہے کہ وہ آبنائےہرمز بند کر کے ایک بڑا بحران پیدا کریں۔ ایسا وہ کر سکتےہیں۔ اگر سب کچھ ڈوبنےلگے گا تب وہ امریکی اثاثوں پربھی اٹیک کرسکتےہیں، مغربی دنیا میں بھی سافٹ ٹارگٹس پر حملہ کی طرف جا سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے بعد ظاہر ہے حملوں میں مزید شدت آئےگی۔ پھر دشمن رجیم تبدیلی کےبغیر نہیں رکےگا۔ ایران، مڈل ایسٹ اور دنیا کےلئے بہترین یہی ہے کہ جنگ بندی ہو اور معاملات نارملائزیشن کی طرف جائیں۔ کیا ایسا ہوگا؟ بظاہر تو آسان نہیں لگ رہا۔ اللہ خیر فرمائے۔