بھارت اور چین کے درمیان اروناچل پردیش کے ناموں اور علاقے کی ملکیت پر تنازع کیا ہے؟

بھارت اور چین کے درمیان اروناچل پردیش کے ناموں اور علاقے کی ملکیت پر تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت میں چین نے کہا ہے کہ وہ جس علاقے کو ژانگنان کہتا ہے، وہاں مقامات کے نام رکھنے کا حق اسے حاصل ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ علاقہ چین کا حصہ ہے، جبکہ بھارت کے اس علاقے کو اروناچل پردیش قرار دینے کو چین تسلیم نہیں کرتا۔

چین کی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں اس متنازع علاقے میں مقامات کے ناموں کی چھٹی فہرست جاری کی گئی ہے۔ چین کا مؤقف ہے کہ یہ اس کی خودمختاری کا حصہ ہے اور معیاری ناموں کی فراہمی اس کے قانونی دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

دوسری جانب بھارت نے ان اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور چین کے ایسے اقدامات زمینی حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔

یہ تنازع نیا نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں میں اس میں بار بار شدت آتی رہی ہے۔ مئی 2025 میں بھی بھارت نے چین کی جانب سے اس علاقے میں متعدد مقامات کے نام تبدیل کرنے کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے۔

نومبر 2025 میں یہ تنازع اس وقت مزید نمایاں ہوا جب ایک بھارتی شہری نے الزام لگایا کہ اسے چین کے ایک ہوائی اڈے پر صرف اس وجہ سے روک کر پوچھ گچھ کی گئی کہ اس کے پاسپورٹ میں پیدائش کی جگہ اروناچل پردیش درج تھی۔ اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کو دوبارہ اجاگر کیا۔

تاریخی طور پر یہ سرحدی تنازع برطانوی دور سے چلا آ رہا ہے، جب بیسویں صدی کے آغاز میں ہمالیائی خطے میں سرحدی لکیر کھینچی گئی تھی۔ بھارت اس لائن کو سرحد تسلیم کرتا ہے، جبکہ چین اس سے اختلاف رکھتا ہے اور پورے اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان 1962 کی جنگ کے بعد یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوا، تاہم حالیہ برسوں میں کبھی کشیدگی اور کبھی سفارتی بہتری کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ 2020 میں سرحدی جھڑپوں کے بعد تعلقات شدید طور پر متاثر ہوئے تھے، تاہم 2024 کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں شروع کیں اور اعلیٰ سطحی رابطے بھی بحال ہوئے۔

حالیہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک تعلقات میں بہتری کی بات کرتے ہیں، لیکن سرحدی تنازعات اور علاقائی دعووں پر بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

فی الحال دونوں ممالک اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ چین اسے اپنا علاقہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ حصہ کہتا ہے۔ اس صورتحال میں خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے وقتاً فوقتاً دوبارہ ابھر رہی ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں