آزاد کشمیر کے حقوق کی بات تو سر آنکھوں پر ، ضرور ملنے چاہیں، لیکن اس وقت کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا یہ طریقہ کار درست ہے؟
بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے جو جو علاقے تزویراتی اہمیت کے حامل ہیں وہاں اس وقت حقوق کے نام پر انتشار کی سی کیفیت ہے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا اس میں ” حسن اہتمام” بھی شامل ہے؟
کشمیر ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات تھے ، کہا جا رہا ہے کہ 35 مطالبات تسلیم ہو چکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے بعد بھی ہڑتال اور انتشار کی سی کیفیت پیدا کرنے کا کوئی جواز موجود ہے؟
کشمیر میں بجلی صرف 3 روپے سے 7 روپے یونٹ مل رہی ہے ۔ باقی پاکستان میں اس کا ریٹ اتنا زیادہ ہے کہ خلقِ خدا کی چیخیں نکل گئی ہیں ۔ کہیں بلوں کے مسائل ہیں ، کہیں سولر پالیسی عذابِ جاں بنی ہوئی ہے لیکن آزاد کشمیر میں بجلی 3 سے 7 روپے یونٹ ہے۔ پھر بھی احتجاج ہو رہا ہے ۔
آزاد کشمیر کی اپنی سالانہ آمدن کا قصہ بھی دلچسپ ہے ۔ آزاد کشمیر کی اپنی سالانہ آمدن قریب 60 ارب ہے۔ اس کا بجٹ مگر 300 ارب سے زیادہ ہے۔ تو کیا کبھی کسی نے سوچا کہ یہ اضافی 240 ارب کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ وفاق دیتا ہے۔ ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ سر آنکھوں پر ، لیکن یہ تو بتا دیجیے کہ پھر بجٹ کہاں سے بنے گا اور تنخواہیں کہاں سے ادا ہوں گی؟ کیونکہ ٹیکس خاتمے کے بعد کشمیر کی اپنی سالانہ آمدن ، بتایا جا رہا ہے کہ ، صرف 15 ارب رہ جائے گی جب کہ اس کا بجٹ 300 ارب سے زیادہ ہوتا ہے۔
ہاں یہ ہو سکتا تھا کہ حکومتی اخراجات اور وزیروں کی فوج کو کم کیا جائے۔ یہ جائز بات ہے ا ور اس پر کسی حد تک کام ہو رہا ہے۔ محکمے ری گروپ ہوئے ہیں ، 22 محکمے کم ہوئے ہیں ، وزرا اور مشیر 30 تھے ، اب کم ہو کر 20 رہ گئے ہیں ۔ اس میں مزید کام بھی ہونا چاہیے، تاہم کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے۔
یورپ سے ترسیلات زر کا طعنہ بھی مبالغہ ہے۔ پاکستان کو سب سے زیادہ رقوم خلیج ا ور عرب ریاستوں سے آتی ہیں ۔ یورپ سے آنے والی رقم بہت کم ہے۔ پھر یہ کشمیریوں کی کل تعداد ہی کتنی ہے جو یورپ میں ہے اور اس میں سے کتنے ہیں جو اب بھی پاکستان رقوم بھیجتے ہیں اور کتنے ہیں جن کا سب کچھ اب یورپ میں ہی ہے۔ پھر یہ کہ یہ باہر گئے تھے تو ریاست پاکستان نے ہی سہولت کاری کی تھی ۔ مزید یہ کہ بیرون ملک پاکستانی تو پاکستان کے ہر خطے سے ہیں ، صرف کشمیر سے نہیں ہیں۔
مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ تسلیم کرنا بھی ممکن نہیں ۔ مہاجرین کی نشتوں کا تعلق تحریک آزادی کشمیر سے ہے ، ان نشستوں کا خاتمہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ کشمیر صرف آزاد کشمیر کا نام نہیں ، یہ ایک وحدت ہےا ور اس کا ایک علاقہ مقبوضہ ہے۔ اسی نسبت سے مہاجرین کی نشستیں رکھی گئی ہیں ۔ انہیں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ کشمیر کی اسمبلی صرف مقامی سیاسی بندر بانٹ کا نام نہیں ہے ، اس کی تحریک آزادی سے بھی ایک نسبت ہے۔ اس کے خاتمے کا مطالبہ بالکل غیر منطقی ہے۔ مہاجرین کی نشستوں کا تعلق حقِ خود ارادیت اور استصواب رائے سے جڑا ہوا ہے۔ا سے کیسے ختم کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح مقبوضہ کشمیر سے آئے مہاجر طلبہ کے کوٹے کے خاتمے کا مطالبہ بھی احمقانہ ہے۔ کمال یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے طلبا کے لیے تو پاکستان میں کوٹہ موجود ہے لیکن آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کے کوٹے پر انہیں بہت تکلیف ہو رہی ہے۔ ذرا غور کیجیے ، یہ مقبوضہ کشمیر کی شناخت کو کیوں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے؟ یہ حقوق کی تحریک ہے یااس کی ڈوریں کہیں اور سے ہل رہی ہیں؟
بنیادی سوال وہی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان کے جو جو علاقے تزویراتی اہمیت کے حامل ہیں وہاں اس وقت حقوق کے نام پر انتشار کی سی کیفیت ہے؟ کیا یہ محض اتفاق ہے یا اس میں ” حسن اہتمام” بھی شامل ہے۔