امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے بعد ایران کی خام تیل کی برآمدات گزشتہ کم از کم 6 برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کے باعث تہران کو تقریباً 6 ارب ڈالر کی متوقع آمدنی سے محروم ہونا پڑا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق، امریکہ نے 13 اپریل کو ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری ناکہ بندی شروع کی تھی۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ امن معاہدے کے لیے امریکی شرائط قبول کرے، جبکہ ایران نے اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے سمندری قزاقی سے تشبیہ دی ہے۔
اس سے قبل ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز کو بیشتر ممالک کے جہازوں کے لیے بند کر دیا تھا۔ یہ آبی گزرگاہ خلیجی ممالک کی تیل اور گیس برآمدات کا اہم ترین راستہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔
ابتدائی مرحلے میں آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور ایران کو فائدہ پہنچا کیونکہ وہ اپنی تیل برآمدات جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔ تاہم امریکی بحری ناکہ بندی کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی اور ایرانی تیل کی بیرون ملک ترسیل میں نمایاں کمی آ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق ایران کی خام تیل اور دیگر متعلقہ مصنوعات کی یومیہ برآمدات تقریباً 20 لاکھ بیرل سے کم ہو کر مئی میں 3 لاکھ بیرل یومیہ سے بھی نیچے آ گئیں۔ ماہرین کے مطابق اگر فی بیرل قیمت 90 ڈالر تصور کی جائے تو مئی میں ایران کی مجموعی تیل آمدنی تقریباً 83 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہی، جبکہ مارچ میں یہی آمدنی پانچ ارب 13 کروڑ ڈالر سے زائد تھی۔
الجزیرہ کے مطابق، مارچ کے مقابلے میں مئی میں ایران کی تیل آمدنی میں تقریباً 84 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اندازوں کے مطابق اپریل اور مئی کے دوران ایران تقریباً پانچ ارب 80 کروڑ ڈالر کی متوقع آمدنی سے محروم رہا۔
اگرچہ ایران اب بھی تیل پیدا کر رہا ہے، لیکن فروخت نہ ہونے والا تیل ذخیرہ کرنے پر مجبور ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 14 کروڑ ستر لاکھ بیرل ایرانی تیل سمندر میں موجود ٹینکروں میں ذخیرہ کیا جا رہا ہے، جن میں سے بڑی مقدار خلیج اور خلیجِ عمان کے علاقوں میں پھنسی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کچھ حد تک پابندیوں سے بچتے ہوئے محدود مقدار میں تیل برآمد کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے، تاہم آمدنی میں شدید کمی ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے دیگر خلیجی ممالک کی برآمدات بھی متاثر کی ہیں، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں اور معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔