روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے براہِ راست ملاقات کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال ایسی ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ روس اپنی مقررہ اہداف کے حصول تک فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
سینٹ پیٹرزبرگ میں اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے یہ بیان ایک روز بعد دیا، جب زیلنسکی نے ایک کھلا خط جاری کرکے روسی صدر کو آمنے سامنے ملاقات کی دعوت دی تھی تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی راستہ نکالا جا سکے۔
پیوٹن نے کہا کہ زیلنسکی کے خط میں نامناسب زبان استعمال کی گئی اور انہیں یہ خط سنجیدہ کوشش کے بجائے ملاقات سے گریز کی ایک کوشش محسوس ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وہ ایسی ملاقات میں کوئی مقصد نہیں دیکھتے اور پہلے ماہرین کو ممکنہ حل تیار کرنے چاہئیں، اس کے بعد قیادت کی سطح پر ملاقات ہو سکتی ہے۔
ادھر یوکرینی صدر زیلنسکی نے پیوٹن کے انکار پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کریملن جنگ ختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ انہوں نے اپنے ویڈیو خطاب میں کہا کہ روس ایک بار پھر جنگ کو ترجیح دے رہا ہے اور یہ جواب دنیا کے بہت سے لوگوں کے لیے مایوس کن ہوگا۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔ بنیادی اختلاف روس کے زیر قبضہ علاقوں کے مستقبل پر ہے، جنہیں ماسکو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے جبکہ کیف اس مطالبے کو مسترد کرتا ہے۔
پیوٹن نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر زور دیا کہ جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک روس اپنے تمام اہداف حاصل نہیں کر لیتا۔ ان کے مطابق فوجی کارروائیاں کسی نہ کسی دن ضرور ختم ہوں گی، لیکن یہ صرف اسی وقت ممکن ہوگا جب روس اپنے مقررہ مقاصد حاصل کر لے گا۔
دوسری جانب امریکہ کی توجہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کی جانب منتقل ہونے کے باعث امن کوششوں کو بھی دھچکا پہنچا ہے۔ زیلنسکی نے اپنے خط میں اس صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ صرف امریکہ کے دوبارہ متحرک ہونے کا انتظار کرنا درست حکمتِ عملی نہیں ہوگی۔
پیوٹن نے روسی معیشت سے متعلق تنقید کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مغربی پابندیوں اور جنگی اخراجات کے باوجود روسی معیشت تباہ نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں معیشت میں معمولی سکڑاؤ آیا، تاہم روس ایک خودمختار معاشی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور صورتحال کو قابو میں رکھا جا رہا ہے۔