جناب خواجہ آصف کی شکایت پر لیسکو نے متعلقہ عملے کو معطل کر دیا ہے ، لیکن یہ بات ادھوری ہے ۔ بات مکمل تب ہوتی ہے جب خواجہ آصف صاحب سے بھی چند سوالات پوچھ لیے جائیں۔
خواجہ آصف صاحب کا ٹویٹ اگر آپ نے نہیں پڑھا تو پڑھ لیجیے ، اور اگر پڑھ چکے ہیں تو دوبارہ غور سے پڑھیے۔ خواجہ صاحب کو اصل غصہ یہ ہے کہ ان کی سفارش کے باوجود واپڈا نے ٹرانسفر لگانے کے لیے 80 ہزار کی رشوت لے لی ۔ وہ لکھتے ہیں ” یہ حال ہے کہ ایک سابق بجلی کا وزیر سفارشی ہو اور موجودہ کابینہ کا رکن بھی ہو اس کی سفارش پر بھی واردات سے گریز نہیں کیا جاتا”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف اپنی سفارش کی بے توقیری پر غصے میں ہیں ۔ یعنی واپڈا کی یہ جرات کہ خواجہ صاحب کی سفارش کے باوجود واردات ڈال دے۔
خواجہ صاحب کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ایک ٹرانسفر کے لیے ایک وفاقی وزیر کو سفارش کیوں کرے۔ وہ اس سے بھی بے نیاز ہیں کہ یہ کیسی گڈ گورننس ہے کہ معمول کے ایک ٹرانسفارمر کی خاطر ایک گاؤں کو ایک وفاقی وزیر سے سفارش کروانی پڑے۔ وہ اس سے بھی بد مزہ نہیں ہوئے کہ ان کے دور حکومت میں گڈ گورننس کا یہ عالم ہے کہ ٹرانسفارمر بھی سفارش کے بغیر نہیں لگ سکتا اور اس کے لیے پاکستان کے وزیر دفاع کو” لیسکو کے ایک پرانے مہربان سی ای او ” کو فون کرنا پڑے ، وہ یہ بھی نہیں بتا رہے کہ واپڈا کا ایک پرانا سی ای او ان کا مہربان کیسے ہو گیا اور صرف وہ ہی مہربان تھا یا جواب میں خواجہ صاحب بھی کسی دور میں مہربان رہے ، ان کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ان کی سفارش کے باوجود واپڈا نے ٹرانسفارمر لگانے کے لیے رشوت لے لی۔ وہ ناراض اس لیے ہیں کہ جس گاؤں کا ایک سابق بجلی کا وزیرا ور موجودہ کابینہ کا رکن سفارشی ہو اس گاؤں کے لوگوں سے بھی رشوت لی گئی۔ یعنی رشوت لینے کے لیے لاوارث عوام کیا مر گئے تھے کہ اب وفاقی وزیر جن کا سفارشی ہو ، ان بلند بختوں سے بھی رشوت لینے کی گستاخی کی جا رہی ہے۔
معاف کیجیے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جس بات پر خواجہ صاحب غصے میں ہیں، یہ بات واپڈا کی واردات سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
ہر گاؤں کے پاس تو یہ سہولت نہیں ہوتی کہ ان کا کوئی رجل رشید کسی وفاقی وزیر کا گھریلو ملازم ہو اور اس گاؤں کا ٹرانسفارمر جلنے پر بندہ پروری سے بے قرار ہو کر سفارشی بن جائے، تو سوال یہ ہے کہ جن کے پاس وفاقی وزیر کی سفارش نہیں ہے وہ کہاں جائیں؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ اس دور جدید میں بھی اگر ایک ٹرانسفارمر کے لیے وفاقی وزیر کی سفارش کروانا پڑےا وروفاقی وزیر صرف ایک ٹرانسفارمر کے لیے واپڈا میں اپنے پرانے مہربان افسران کو فون کھڑکانا شروع کر دے تو واپڈا کی تباہی میں اس سفارش کلچر کا بھی کوئی ہاتھ ہے یا وہ صرف مبینہ رشوت کے کلچر کی وجہ سے تباہ ہو رہا ہے؟
ٹرانسفارمر لگانے کے لیے خواجہ صاحب نے پرانے مہربان کو فون کیا ہی کیوں؟ کسی موجودہ افسر کو کیوں نہیں فون کیا؟ الفاظ پر غور کیجیے ، لکھتے ہیں میں نے ایک پرانے مہربان سی ای او کو فون کیا کہ مہربانی فرمائیں ۔ سوال یہ ہے کہ جلا ہوا ٹرانسفارمر لگانا ‘مہربانی فرمانا’ کب سے ہو گیا؟ ان افسران کو اس کام کی تنخواہ ملتی ہے تو وفاقی وزیر اسے ‘مہربانی’ فرمانا کیسے قرار دے سکتے ہیں ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اسی فدویانہ سفارشی کلچر اور مداخلت نے ادارے تباہ کیے ہوں؟ ان کے پرانے مہربانوں نے مہربانیاں فرمانا ہی سیکھی ہوں ، کام کرنا سیکھا ہی نہ ہو۔
خواجہ صاحب نے فون کیا ہی کیوں ؟ کیا انہوں نے تسلی کر لی تھی کہ ایک ٹرانسفارمر کی تبدیلی میں معمول کے مطابق کتنا وقت لگتا ہے؟ کیا وہ وقت گزر چکا تھا اور اس گاؤں کے ساتھ واقعی زیادتی ہو رہی تھی یا خواجہ صاحب آوٹ آف دی وے فیور لینا چاہتے تھے کہ اس گاؤں کی شکایت کا نمبر بھلے آیا ہو یا نہ آیا ہو لیکن اب چونکہ میں سفارشی ہوں تو اس گاؤں کا ٹرانسفارمر فوری طور پر لگایا جائے۔ کیا اسی سفارشی کلچر نے ہمارا ستیا ناس نہیں کیا کہ میرٹ پر کام نہیں ہوتا اور لوگ سفارشی تلاش کرتے ہیں اور فاقی وزیر بھی میرٹ پر کام کو یقینی بنانے کی بجائے پرانے مہربان افسران کو فون کھڑکاتے ہیں کہ جناب مہربانی کر دیں۔ اللہ بھلا کرے گا۔
خواجہ صاحب اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ واپڈا نے رشوت لے کر رسید تک نہیں دی ۔ کیا خواجہ صاحب رہنمائی فرمائیں گے کہ باقی کے سارے محکمے کیا رشوت لے کر رسید دیا کرتے ہیں یا خود واپڈا کیا اس زمانے میں رشوت لے کر رسید دیا کرتا تھا جب خواجہ صاحب اس کے وزیر ہوا کرتے تھے؟ یا اس مبارک دور میں واپڈا نے سرے سے رشوت لینا ہی چھوڑ دی تھی؟
ایک طرف سرکاری محکمے ہیں جو رشوت لے کر کام کرتے ہیں ، دوسری جانب وفاقی وزیر ہیں جو ناراض ہیں کہ سفارش کے باوجود رشوت کیوں لی گئی۔ سوال یہ ہے کہ وہ عام آدمی کہاں جائے جس کے پاس نہ رشوت ہے نہ سفارش؟ کیا خواجہ صاحب رہنمائی فرمائیں گے؟