اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر امریکی جنگ اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث دنیا کے کئی کمزور ممالک میں غذائی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے اور لاکھوں مزید افراد بھوک اور غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق صومالیہ میں مزید 25 لاکھ، افغانستان میں 23 لاکھ اور سری لنکا میں 13 لاکھ افراد اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے ان ممالک کے عوام پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
عالمی ادارۂ خوراک نے مارچ میں پیش گوئی کی تھی کہ جون کے اختتام تک دنیا بھر میں مزید ساڑھے چار کروڑ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ تعداد ان 31 کروڑ 80 لاکھ افراد کے علاوہ ہے جو پہلے ہی خوراک کی کمی اور بھوک کے مسائل سے دوچار ہیں۔
ادارے کے قائم مقام سربراہ کارل اسکاو نے کہا ہے کہ توانائی اور خوراک کی قیمتوں کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔ ان کے مطابق غریب ممالک میں لوگ پہلے ہی اپنی آمدن کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں، اس لیے جب خوراک مہنگی ہوتی ہے تو وہ کم کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات دنیا کے دیگر حصوں تک پہنچ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں خوراک اور ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر وہ ممالک زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جو پہلے ہی معاشی اور انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
عالمی ادارۂ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم بھی ہو جائے تو اس کے معاشی اور انسانی اثرات آئندہ کئی ماہ تک برقرار رہ سکتے ہیں۔