ایبولا کی نئی ویکسینز کب دستیاب ہوں گی اور ان پر تحقیق کہاں تک پہنچی؟

مشرقی افریقہ اس وقت ایبولا کی تیزی سے پھیلنے والی وبا کی لپیٹ میں ہے، جہاں حکومتیں وائرس پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ سینکڑوں افراد اس مرض سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار موجودہ طبی ردعمل سے زیادہ تیز ہے، اسی لیے نئی ویکسینز کی تیاری اور آزمائش کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق، ایبولا کی یہ وبا جمہوریہ کانگو کے مشرقی صوبے ایتوری میں شروع ہوئی تھی، جہاں مسلح تنازعات اور محدود طبی سہولیات کے باعث صورتحال پہلے ہی پیچیدہ تھی۔ بعد ازاں یہ بیماری سرحدی علاقوں کے ذریعے پڑوسی ملک یوگنڈا تک بھی پہنچ گئی۔

یہ وبا کتنی سنگین ہے؟
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2 جون تک جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے 321 تصدیق شدہ اور 116 مشتبہ کیسز سامنے آ چکے تھے۔ اب تک 48 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ چند مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

یوگنڈا میں بھی متعدد کیسز اور کم از کم ایک ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ بعد ازاں حکام نے مزید متاثرہ افراد کا اعلان کیا، جس کے بعد وہاں مریضوں کی تعداد بڑھ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ وبا ماضی کی شدید ایبولا وباؤں کی طرح سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔ 2014 میں مغربی افریقہ میں پھیلنے والی ایبولا وبا میں تقریباً 29 ہزار افراد متاثر اور 11 ہزار سے زائد ہلاک ہوئے تھے۔

موجودہ وائرس کے لیے ویکسین کیوں موجود نہیں؟
اس مرتبہ پھیلنے والی وبا ایبولا کی ایک نسبتاً نایاب قسم بنڈی بوجیو وائرس کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ یہ وائرس پہلی بار 2007 میں یوگنڈا اور بعد میں 2012 میں جمہوریہ کانگو میں سامنے آیا تھا۔
یہ وائرس اس زائر ایبولا وائرس سے مختلف ہے جس کے خلاف پہلے سے ویکسینز دستیاب ہیں۔ زائر ایبولا وائرس کے لیے دو معروف ویکسینز موجود ہیں، ایک ارویبو اور دوسرا زبدینو اینڈ موابیا۔

چونکہ بنڈی بوجیو وائرس کے پھیلاؤ کے واقعات بہت کم ہوئے ہیں، اس لیے اس کے خلاف تحقیق اور آزمائش کے مواقع محدود رہے، جس کے نتیجے میں ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب نہیں۔

کن نئی ویکسینز پر کام جاری ہے؟

وبا کے پھیلاؤ کے بعد تین نئی ویکسینز کو ہنگامی بنیادوں پر آزمائش کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ‘اتحاد برائے وبائی تیاری کی جدت’ کی مالی معاونت سے جاری ہے۔

انٹرنیشنل ایڈز ویکسین انیشی ایٹو کی ویکسین
انٹرنیشنل ایڈز ویکسین انیشی ایٹو کی ویکسین کو اس منصوبے کے لیے 32 لاکھ ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ ویکسین ایک کمزور اور بے ضرر وائرس کے ذریعے جسم کو مدافعتی ہدایات فراہم کرنے کی تکنیک استعمال کرے گی۔

موڈرنا کی ویکسین
موڈرناکو 5 کروڑ ڈالر دیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنی ایم آر این اے ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ویکسین تیار کرے۔ یہی ٹیکنالوجی کورونا وبا کے دوران موڈرنا کی ویکسین میں استعمال ہوئی تھی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین
ک آکسفورڈ یونیورسٹی و 86 لاکھ ڈالر فراہم کیے گئے ہیں۔ یہ ویکسین اسی طرز کی ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگی جو کورونا کے دوران آکسفورڈ اور آسٹرا زینیکا کی مشترکہ ویکسین میں استعمال ہوئی تھی۔

ان تمام ویکسینز کی تیاری سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کرے گا۔

ویکسین کب تک تیار ہو سکتی ہے؟
ابھی یہ واضح نہیں کہ آزمائشی مراحل کب مکمل ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی تحقیق، حفاظتی جانچ اور کلینیکل آزمائشوں میں کئی ماہ یا بعض اوقات سال بھی لگ سکتے ہیں، جبکہ کامیاب نتائج کے بعد بڑے پیمانے پر پیداوار شروع ہونے میں مزید وقت درکار ہوگا۔

علاج اور دیگر چیلنجز
فی الحال بنڈی بوجیو وائرس کے مریضوں کا علاج علامات کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، جس میں جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنا، خون کے دباؤ کو قابو میں رکھنا اور طبی نگرانی شامل ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین نے حال ہی میں ایم بی پی 134 نامی تجرباتی علاج کے استعمال کی بھی سفارش کی ہے۔ تاہم ماہرین کو خدشہ ہے کہ جب نئی ویکسینز دستیاب ہوں گی تو انہیں عوامی اعتماد کا مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے۔ جمہوریہ کانگو میں ماضی میں ایبولا کے حوالے سے غلط معلومات اور افواہوں کے باعث کئی بار طبی مراکز پر حملے اور احتجاج بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں