پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے دورہ پاکستان کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
اسلام آباد میں مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات تاریخی روابط، عوامی سطح کے تعلقات اور کینیڈا میں مقیم متحرک پاکستانی کمیونٹی کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی تعاون پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں ایک اہم ترجیح ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق دونوں ممالک نے تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے، بی ٹو بی روابط مضبوط کرنے اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تعلیم، توانائی، کان کنی، اہم معدنیات، زرعی ڈھانچے اور آئی ٹی سمیت ترجیحی شعبوں میں کینیڈین سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کے ساتھ علاقائی اور عالمی امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اسحاق ڈار کے مطابق دونوں ممالک نے مسلسل رابطے، ادارہ جاتی تعاون، باقاعدہ مشاورت اور متعلقہ وزارتوں کے درمیان زیادہ روابط پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے سہولت کار ماحول فراہم کرنا بھی بات چیت کا اہم حصہ تھا، اور کینیڈین کمپنیوں کو پاکستان میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے مواقع دیکھنے کی دعوت دی گئی۔
دونوں ممالک نے تعلیم، افرادی قوت کی نقل و حرکت، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان اور کینیڈا، کینیڈین کینولا کی درآمدی شرائط سے متعلق ایک نیا پروٹوکول بھی دستخط کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی اور کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی مستقبل میں تکنیکی تعاون اور استعداد کار بڑھانے کے مواقع کا جائزہ لیں گی۔
وزیر خارجہ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ اور فروغ کے معاہدے پر پیش رفت بھی زیر بحث آئی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریق اس معاہدے کو جلد اور باہمی فائدے کی بنیاد پر مکمل کرنے کے لیے رابطے جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے اسلام آباد میں پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 20 سال بعد کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پاکستان آنا ایک اہم موقع ہے۔
انیتا آنند کے مطابق پاکستان اور کینیڈا کے سفارتی تعلقات کو تقریباً 80 سال ہو چکے ہیں، اور دونوں ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے کام جاری رکھنا ہوگا۔
اسحاق ڈار نے پریس بریفنگ میں علاقائی امور پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ انیتا آنند کے ساتھ افغانستان کی صورتحال، انسداد دہشت گردی تعاون اور دیگر عالمی و علاقائی معاملات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے مسئلہ جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر 1948 سے موجود دیرینہ حل طلب عالمی تنازعات میں شامل ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کا اعلان کر کے خطے کی پہلے سے نازک سلامتی صورتحال میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کینیڈا سمیت دوست ممالک سے توقع رکھتا ہے کہ وہ بھارت پر زور دیں کہ سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر بحال کیا جائے، پانی کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ ختم ہو اور عالمی قانون و معاہدوں کی پاسداری کی جائے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کینیڈا کی تعمیری شمولیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور باہمی احترام، مشترکہ مفاد، امن، استحکام اور خوشحالی کی بنیاد پر تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔
اس سے قبل پاکستان اور کینیڈا کے وفود کے درمیان بھی مذاکرات ہوئے، جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، سکیورٹی، زرعی خوراک، مینوفیکچرنگ اور علاقائی و عالمی امور پر بات چیت کی گئی۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے ترجیحی شعبوں میں تعاون بڑھانے اور مشترکہ بیان پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے سالانہ اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کو اپنے دارالحکومتوں میں زیادہ کثرت سے ملاقاتیں کرنی چاہییں، کیونکہ تجارت، دفاع اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
انیتا آنند نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مختلف شعبوں میں مضبوط بنانے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق کینیڈین وزیر خارجہ کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔