ایرانی حملوں میں دو امریکی فوجی ہلاک، امریکہ ایران جنگ میں اردن نیا اہم محاذ کیسے بن رہا ہے؟

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر چار ایرانی حملے کیے گئے ہیں، جن میں دو امریکی فوجی ہلاک، ایک لاپتا اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق جمعے کو اردن کے موفق السلطی ایئربیس پر ہونے والے حملے میں دو فوجی مارے گئے جبکہ چار دیگر زخمی ہوئے۔ ایک امریکی اہلکار اب بھی لاپتا بتایا جا رہا ہے۔

یہ وہی فضائی اڈہ ہے جسے اس سے تقریباً 48 گھنٹے پہلے بھی ایرانی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حملے کے دوران پناہ گاہوں کی طرف جاتے ہوئے تقریباً 20 امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے، تاہم کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔

حکام کے مطابق اردن میں امریکی فوج پر پہلا حالیہ حملہ کنگ فیصل ایئربیس کی رہائشی عمارت پر ہوا، جس میں پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔ دوسرے حملے میں مشرقی اردن میں ایک ایسے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر موجود تھے، اور متعدد ہیلی کاپٹروں کو نقصان پہنچا۔

ایرانی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ازرق میں امریکی اڈے پر ڈرون حملہ کرکے ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر رساں ادارے کے مطابق حملے میں میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے طیاروں کے ہینگرز کو بھی ہدف بنایا گیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں میزائل موجود ہیں اور وہ امریکی فضائی دفاعی نظام سے بچنے کی صلاحیت میں بھی بہتری لا رہا ہے۔

اردن میں امریکہ کے کئی اہم فضائی اڈے موجود ہیں۔ جنگ کے آغاز سے پہلے اور ابتدائی دنوں میں امریکہ نے بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات سے اپنے بعض فوجی اردن اور اسرائیل منتقل کیے تھے، کیونکہ ان مقامات کو نسبتاً محفوظ سمجھا جا رہا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق خطے کے بعض اتحادی ممالک کی جانب سے اپنی فضائی حدود اور فوجی اڈوں کے استعمال پر پابندیاں سخت کیے جانے کے بعد اردن کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اردن کی جغرافیائی حیثیت امریکہ کو شام، عراق اور خطے کے دیگر حصوں میں فضائی کارروائیاں کرنے میں سہولت فراہم کرتی ہے۔

امریکی فوج نے ہفتے کی شام اعلان کیا کہ اس نے اردن میں امریکی اہلکاروں پر حملوں کے جواب میں ایرانی اہداف پر کارروائیاں کی ہیں۔ امریکی بیان کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو لاحق خطرات کم کرنا اور پاسدارانِ انقلاب کو سزا دینا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ایران پر حملے مزید بڑھائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے پلوں، بجلی گھروں اور توانائی کی ترسیل کے نظام سمیت مزید ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی بات بھی کی ہے۔

اردن پر بڑھتے ہوئے حملوں سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اب خطے کے مزید ممالک تک پھیل سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں