جنوبی افریقا میں “نیلسن منڈیلا ڈے” اس سال صرف عوامی خدمت کا دن نہیں بلکہ ملک میں بڑھتی ہوئی تقسیم، عدم مساوات اور تارکین وطن کے خلاف مہمات پر ایک بڑی سیاسی بحث بن گیا ہے۔
ہر سال 18 جولائی کو نیلسن منڈیلا انٹرنیشنل ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد سابق جنوبی افریقی صدر کی انصاف، برابری اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ اقوام متحدہ نے سال 2009 میں اس دن کو عالمی سطح پر منانے کی منظوری دی تھی۔
اس دن لوگ روایتی طور پر 67 منٹ عوامی خدمت کے لیے وقف کرتے ہیں، جو منڈیلا کی 67 سالہ عوامی جدوجہد کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم اس سال جنوبی افریقا میں منڈیلا ڈے ایک نئے تنازع کا مرکز بن گیا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق “مارچ اینڈ مارچ” نامی تارکین وطن مخالف گروپ نے منڈیلا ڈے کو مشرقی کیپ کے قصبوں میں کاروباروں کی جانچ پڑتال اور غیر قانونی تارکین وطن کی نشاندہی کے لیے استعمال کرنے کا اعلان کیا۔
مشرقی کیپ نیلسن منڈیلا کا آبائی صوبہ بھی ہے۔
گروپ کا مؤقف ہے کہ حکومت سرحدوں کو محفوظ بنانے، امیگریشن قوانین نافذ کرنے اور جنوبی افریقی شہریوں کے لیے روزگار کو ترجیح دینے میں ناکام رہی ہے۔
لیکن نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن نے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔
فاؤنڈیشن کے سربراہ مبونگیسینی بوتھیلیزی نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ منڈیلا ڈے کو تارکین وطن کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنا خدمت کے دن کو تقسیم کے دن میں بدلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات منڈیلا کے مکالمے، آئین پسندی اور انسانی وقار کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
جنوبی افریقا اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، جہاں بے روزگاری، غربت، عدم مساوات اور عوامی خدمات کی ناکامی پر غصہ بڑھ رہا ہے۔ تارکین وطن مخالف گروپس کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن روزگار کے مواقع کم کرتے ہیں اور پہلے سے دباؤ کا شکار کمیونٹیز پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔
تاہم ناقدین کے مطابق تارکین وطن کو دراصل حکومت کی ناکامیوں کا آسان ہدف بنایا جا رہا ہے۔
نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ریاستی ناکامیوں کی ذمہ داری جنوبی افریقا میں موجود تارکین وطن پر نہیں ڈالی جا سکتی۔
حکومت نے بھی غیر ملکیوں کے خلاف نفرت کی مذمت کی ہے، مگر ساتھ ہی امیگریشن قوانین کے نفاذ کو سخت کیا ہے۔ حکام کے مطابق ملک گیر امیگریشن آپریشن کے بعد 53 ہزار سے زائد غیر ملکی شہریوں کو ملک بدر یا واپس بھیجا گیا ہے، جن میں زیادہ تر زمبابوے، ملاوی اور موزمبیق کے شہری شامل ہیں۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔
اس کے باوجود تارکین وطن مخالف گروپ اپنی مہمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔
افریقن نیشنل کانگریس ویٹرنز لیگ کے صدر سنوکی زکالالا، جو منڈیلا کے ساتھ کام کر چکے ہیں، نے کہا کہ منڈیلا افریقی تارکین وطن کو نشانہ بنانے کی کبھی حمایت نہ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ منڈیلا کے نام پر لوگوں کو جنوبی افریقا سے نکالنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ وہ بھی انسان ہیں۔
زکالالا کے مطابق افریقن نیشنل کانگریس بھی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں، کیونکہ وہ عوام میں شعور پیدا کرنے اور مقامی سطح پر مضبوط قیادت برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔
اس تنازع نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا ہے کہ آج کے جنوبی افریقا میں منڈیلا کی میراث کا اصل وارث کون ہے۔
احمد کتھرادا فاؤنڈیشن کے سربراہ نیشان بولٹن کے مطابق منڈیلا کی شناخت ایک آزادی پسند رہنما کے طور پر آہستہ آہستہ کم کر دی گئی اور انہیں صرف عوامی خدمت کی علامت بنا دیا گیا۔ ان کے مطابق مختلف سیاسی گروپ منڈیلا کے نام کو اپنی اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔
اس سال منڈیلا ڈے کا موضوع ، “غربت اور عدم مساوات کے خلاف جدوجہد اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے” ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی موضوع جنوبی افریقا کی موجودہ صورتحال سے گہرا تعلق رکھتا ہے، جہاں غربت، بے روزگاری، نسلی اور سماجی تقسیم، اور تارکین وطن کے خلاف کشیدگی ایک ساتھ بڑھ رہی ہے۔
نیلسن منڈیلا فاؤنڈیشن کا مؤقف ہے کہ منڈیلا کے نام کو نفرت یا تقسیم کے لیے استعمال کرنا ان کے اصولوں کی نفی ہے۔
دوسری جانب مارچ اینڈ مارچ کا کہنا ہے کہ اس کی مہم جنوبی افریقی شہریوں کے روزگار اور تحفظ کے لیے ہے۔