فیفا چیمپئن 2026، اسپین نے ارجنٹینا کو کیسے قابو کیا؟

اسپین نے ورلڈکپ 2026 کے فائنل میں ارجنٹینا کو 0-1 سے شکست دے کر دوسری بار عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ نیویارک نیو جرسی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں اسپین نے نہ صرف گیند پر زیادہ کنٹرول رکھا بلکہ ارجنٹینا کے سب سے بڑے کھلاڑی، لیونل میسی کو بھی زیادہ تر وقت کھیل سے دور رکھا۔

اسپین نے 34 دن پہلے اپنا ورلڈکپ سفر کیپ ورڈی کے خلاف بغیر کسی گول کے برابر میچ سے شروع کیا تھا، لیکن ٹورنامنٹ آگے بڑھنے کے ساتھ لوئس ڈی لا فوینتے کی ٹیم نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ اسپین نے پورے ورلڈکپ میں صرف 1 گول کھایا اور اپنا ناقابل شکست سفر 38 میچز تک بڑھا دیا۔

اسپین اس ورلڈکپ میں سب سے کم عمر اسکواڈز میں سے ایک تھا۔ ٹیم کی اوسط عمر 26.19 سال تھی اور صرف 6 کھلاڑی 30 سال سے زائد عمر کے تھے۔ پاؤ کبارسی اور لامین یامال دونوں 19 سال کے ہیں، پیڈری 23 سال کے ہیں، جبکہ نیکو ولیمز 24 سال کے ہیں۔

لامین یامال نے ٹورنامنٹ میں صرف 1 گول کیا، لیکن اس کا اثر صرف گولز تک محدود نہیں تھا۔ وہ ہر میچ میں اسپین کے اٹیکس کا حصہ رہے، فرانس کے خلاف سیمی فائنل میں پنالٹی حاصل کی اور مخالف دفاع کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔

ماہرین کے مطابق، اسپین کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ٹیم کسی ایک کھلاڑی پر منحصر نہیں رہی۔ مائیکل اویارزابال نے 5 گول کیے، مائیکل میرینو اور پیڈرو پورو نے 2، 2 گول کیے، جبکہ فیران ٹوریس نے فائنل میں فیصلہ کن گول کر کے اسپین کو ٹرافی دلا دی۔

سپورٹس ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی اسپین اور ارجنٹینا کے درمیان سب سے بڑا فرق تھا۔ ارجنٹینا کے کھیل کا مرکز میسی رہے، جبکہ اسپین نے ایک مکمل ٹیم کی طرح کھیل پیش کیا۔

فائنل سے پہلے اسپین کا سب سے بڑا امتحان فرانس کے خلاف سیمی فائنل تھا۔ فرانس کے پاس کائلین ایمباپے، مائیکل اولیسے اور دیگر خطرناک حملہ آور موجود تھے، لیکن اسپین کے مڈفیلڈ نے میچ کی رفتار اپنے ہاتھ میں رکھی۔ دانی اولمو، روڈری اور فابیان روئز نے گیند پر قبضہ برقرار رکھا اور فرانس کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔ اسپین نے یہ میچ 0-2 سے جیتا ۔

ارجنٹینا کے خلاف فائنل میں اسپین نے وہی حکمت عملی اپنائی جو فرانس کے خلاف کامیاب رہی تھی۔ اسپین نے 65 فیصد بال کنٹرول رکھا اور ارجنٹینا کو 120 منٹ میں صرف 2 شاٹس تک محدود رکھا۔ ان میں سے کوئی بھی شاٹ گول پر نہیں تھا۔

میسی زیادہ تر وقت اسپین کے مڈفیلڈ اور دفاعی لائن کے درمیان پھنسے رہے۔ ارجنٹینا کے اسٹرائیکرز کو وہ جگہ نہیں ملی جہاں سے وہ خطرناک ثابت ہو سکتے تھے۔ دوسرے ہاف کے اسٹاپیج ٹائم میں ارجنٹینا کی مایوسی اس وقت واضح ہوئی جب اینزو فرنینڈس کو دوسرا یلو کارڈ ملا اور وہ میدان سے باہر ہو گئے۔

اضافی وقت میں اسپین نے دباؤ برقرار رکھا اور 106 ویں منٹ میں فیران ٹوریس نے گیند جال میں پہنچا دی، اور ورلڈکپ اپنے نام کیا۔

اسپین اب ایک ہی وقت میں یورپی چیمپیئن بھی ہے اور ورلڈکپ چیمپیئن بھی۔ اس ٹیم کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کئی بڑے کھلاڑی ابھی اپنے عروج پر نہیں پہنچے۔ یامال، کبارسی، پیڈری اور ولیمز جیسے کھلاڑی 2030 کے ورلڈکپ تک مزید پختہ ہو چکے ہوں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں