جب پورے برصغیر میں خاص طور پر نئی دہلی سے جنم لینے والی جنگجویانہ روش عقلیت پسندی کو دبا رہی ہے، تو ضروری ہے کہ ہوش مندی کو جگہ دی جائے۔
بدھ کی صبح، پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت ایک یا دو روز میں “کوئی کارروائی کرنے کا منصوبہ” بنا رہا ہے۔ ایک دن قبل، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سینیٹ میں کہا کہ نئی دہلی “کسی قسم کی کشیدگی” کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ انتباہ اس وقت زیادہ اہم ہو جاتے ہیں جب بھارتی وزیراعظم کی طرف سے فوج کو “آپریشنل آزادی” دینے کی ہدایات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ صرف بیانات ہی نہیں، بلکہ زمینی صورتحال بھی تشویشناک حد تک بگڑ رہی ہے۔
پہلگام سانحے کے بعد لائن آف کنٹرول پر مسلسل فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے، جبکہ منگل کو پاک فوج نے آزاد جموں و کشمیر میں دو بھارتی ڈرون مار گرائے۔ اس کے علاوہ، سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ بھارتی لڑاکا طیارے ایل او سی کے قریب گشت کر رہے تھے جنہیں پاک فضائیہ کے جہازوں نے روک لیا۔ بدھ کی شام، اسحاق ڈار نے ڈی جی آئی ایس پی آر اور دفتر خارجہ کے ترجمان کے ہمراہ اعادہ کیا کہ اگر بھارت نے اشتعال انگیزی کی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔
بھارت بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر دھر کر جنگی ماحول پیدا کر رہا ہے۔ یہ خطرناک طرزِ عمل پورے جنوبی ایشیا کے لیے تباہ کن نتائج لا سکتا ہے۔ جوہری صلاحیت رکھنے والے اس خطے میں بھارتی ریاست اور اس کے بڑے میڈیا حلقوں کی جانب سے جنگی جنون کو ہوا دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ یہ بات بار بار دہرائی جانی چاہیے کہ اگر بھارت کے پاس کوئی معتبر ثبوت ہے، تو اسے پاکستان اور عالمی برادری کے ساتھ شیئر کرے۔
اگر نئی دہلی کو اپنے دعووں پر واقعی یقین ہے تو اسے چاہیے کہ کسی غیر جانبدار تیسرے فریق سے اس واقعے کی تحقیقات کروانے پر آمادگی ظاہر کرے۔ چونکہ پاکستان کے خلاف کوئی معقول ثبوت موجود نہیں، بھارت ایک مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایک نہایت خطرناک کھیل ہے جو پورے خطے کو غیر متوقع انجام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس نئی کشیدگی سے بچاؤ کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ اس پیشکش پر سنجیدگی سے غور کریں تاکہ جنگ کے خطرے کو ٹالا جا سکے۔ خلیجی ممالک، امریکہ اور روس جیسے دیگر مشترکہ دوست بھی اس تناؤ کو کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں امریکی وزیر خارجہ نے گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف سے بات چیت کی۔
تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط دشمنی نے اس خطے کو کچھ بھی مثبت نہیں دیا۔ جب جنگی جنون کا زور ٹوٹے، تو بھارت کو ہوش سے کام لیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تمام امور — بشمول کشمیر — پر بات چیت کی اہمیت پر غور کرنا چاہیے، اگر وہ واقعی امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان بھارتی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کر سکتا ہے اور کرے گا، لیکن کسی بھی عسکری محاذ آرائی سے پورے خطے میں تباہی اور ہلاکتیں ہی ہوں گی۔ اس لیے نئی دہلی کو اپنی جنگجویانہ زبان کو تبدیل کر کے اس بحران کو تدبر سے حل کرنا چاہیے — جو بی جے پی کے دور حکومت میں بہت حد تک مفقود رہا ہے۔ پرامن حل کا موقع تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
شائع شدہ: ڈان، یکم مئی 2025