سمرقند میں ازبک شطرنج ٹیم کی تاریخی کامیابی، یوکرین کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گئی

ازبکستان کی قومی شطرنج ٹیم نے اپنے ہی ملک کے تاریخی شہر سمرقند میں منعقدہ 46ویں عالمی شطرنج اولمپیاڈ کے اوپن مقابلوں میں طلائی تمغہ جیت لیا ہے۔ ازبک ٹیم نے فیصلہ کن آخری راؤنڈ میں یوکرین کو ڈھائی کے مقابلے میں ڈیڑھ پوائنٹ سے شکست دے کر دوسری مرتبہ عالمی شطرنج اولمپیاڈ کا اعزاز اپنے نام کیا۔

عالمی شطرنج فیڈریشن کے مطابق آخری راؤنڈ میں ازبکستان کے محی الدین مدامینوف نے رومان دیختیاروف کے خلاف فیصلہ کن کامیابی حاصل کی، جبکہ باقی تین مقابلے برابر رہے۔ اس فتح کے بعد ازبکستان نے بھارت اور جرمنی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ بھارت نے چاندی جبکہ جرمنی نے کانسی کا تمغہ جیتا۔

ازبکستان کا چیمپئن بننے تک کا سفر بھی شاندار رہا۔ قومی ٹیم نے مقابلوں کے دوران بھارت کو شکست دے کر برتری حاصل کی، چین کو 3-1 سے ہرایا، امریکا کے خلاف اہم کامیابی حاصل کی اور آخری سے پہلے راؤنڈ میں آرمینیا کو ساڑھے تین کے مقابلے میں آدھا پوائنٹ سے شکست دی۔

قومی ٹیم میں جاوخیر سنداروف، نودیربیک عبد الستاروف، نودیربیک یعقوب بوئیف، شمس الدین واحدوف اور محی الدین مدامینوف شامل تھے، جبکہ سابق عالمی چیمپئن رستم قاسم جانوف ٹیم کے کپتان تھے۔ نودیربیک عبد الستاروف نے پہلے بورڈ پر انفرادی طلائی تمغہ بھی حاصل کیا۔

یہ ازبکستان کا عالمی شطرنج اولمپیاڈ میں دوسرا طلائی تمغہ ہے۔ اس سے قبل ازبک ٹیم نے چنئی 2022 میں پہلی مرتبہ طلائی تمغہ جیتا تھا، جبکہ بڈاپسٹ 2024 میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ یوں ازبکستان نے مسلسل تین شطرنج اولمپیاڈز میں تمغہ جیتنے کا سلسلہ برقرار رکھا۔

46واں عالمی شطرنج اولمپیاڈ 16 سے 27 ستمبر تک سمرقند میں منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر کی قومی ٹیموں نے حصہ لیا۔ میزبان ملک کا اپنے ہی میدان پر دوسری بار عالمی چیمپئن بننا ازبک شطرنج کی تاریخ کی اہم ترین کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں