اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس سے اپنے آخری خطاب میں انتونیو گوٹیرس نے دنیا بھر کے رہنماؤں سے باہمی تعاون اور انحصار پر مبنی نظام اپنانے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں دراڑیں بڑھتی جا رہی ہیں اور موسمیاتی تبدیلی، جنگیں اور مصنوعی ذہانت جیسے مسائل مل کر عالمی نظام کے لیے چیلنج بن چکے ہیں۔
سیکریٹری جنرل نے کہا کہ دنیا کو تقسیم اور بداعتمادی کی بجائے ایسے نظام کی ضرورت ہے جو معاشی، سیاسی، سماجی اور ٹیکنالوجی کے مضبوط رابطوں پر قائم ہو۔ انہوں نے بڑی طاقتوں کو بھی خبردار کیا کہ طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرنے کی سوچ ترک کی جائے۔
واضح رہے کہ گوٹیرس کی دوسری اور آخری مدت اکتیس دسمبر کو ختم ہو رہی ہے اور ابھی تک ان کے جانشین کے حوالے سے کوئی واضح نام سامنے نہیں آیا۔ اجلاس میں ایک سو تیس سے زائد سربراہانِ مملکت و حکومت خطاب کریں گے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں۔