افغانستان کی وزارتِ خارجہ نے سری لنکا بھیجی جانے والی 463 کلوگرام کرسٹل میتھ کو ’افغان نژاد‘ قرار دینے کے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔ افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے کہا کہ ضبط کی گئی منشیات کے اصل ماخذ کی تحقیقات پاکستان میں کی جانی چاہییں۔
عبدال-قہار بلخی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے پاکستان اور امریکا کی مشترکہ کارروائی میں پکڑی جانے والی منشیات کو افغانستان سے منسلک کرنا درست نہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ افغانستان میں ہر قسم کی منشیات کی پیداوار، اسمگلنگ اور استعمال پر پابندی عائد ہے۔
افغان ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ افغانستان کے پاس مصنوعی منشیات تیار کرنے کی صلاحیت موجود نہیں اور ڈیورنڈ لائن پر کئی سرحدی گزرگاہیں طویل عرصے سے بند ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ افغانستان میں پابندی کے بعد سرحد کے دوسری جانب منشیات کی کاشت، پیداوار اور اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اس سے ایک روز قبل اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے کہا تھا کہ امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن اور پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس نے مشترکہ کارروائی میں 463 کلوگرام کرسٹل میتھ ضبط کی، جس کی مالیت تقریباً 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر بتائی گئی۔ امریکی بیان میں اس منشیات کو ’افغان نژاد‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسے سری لنکا بھیجا جا رہا تھا اور کارروائی کے نتیجے میں متعدد گرفتاریاں بھی ہوئیں۔
امریکی بیان کے مطابق یہ کارروائی 30 اگست کو کی گئی تھی اور منشیات سری لنکا کے کولمبو پورٹ پر پکڑی گئیں۔ سری لنکن حکام کے مطابق منشیات ایک کنٹینر میں چھپائی گئی تھیں، جبکہ امریکی سفارتخانے نے اس کارروائی کو پاکستان اور امریکا کے درمیان انسدادِ منشیات تعاون کی مثال قرار دیا۔
اس سے قبل پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس نے بھی پاکستان اور سری لنکا کے درمیان منشیات اسمگلنگ کے ایک نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات جاری کی تھیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق کراچی اور کولمبو بندرگاہوں پر مختلف کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں میتھ ایمفیٹامائن ضبط کی گئی اور متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ تاہم منشیات کے اصل ماخذ سے متعلق پاکستان، امریکا اور افغان حکام کے بیانات میں اختلاف برقرار ہے۔