بھارتی حکومت نے تمام ریاستوں کو نکوٹین پاؤچز کی فروخت کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعات ملک میں بغیر منظوری کے آن لائن اور دکانوں کے ذریعے فروخت ہو رہی ہیں اور خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کے لیے صحت کے سنگین خدشات پیدا کر رہی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارتی وزارتِ صحت نے 19 ستمبر کو ریاستی حکومتوں کو بھیجے گئے خط میں کہا کہ نکوٹین پاؤچز کی آن لائن اور آف لائن دستیابی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزارت نے متعلقہ حکام کو قانون کے تحت تلاشی، مصنوعات ضبط کرنے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے۔
نکوٹین پاؤچز چھوٹے تھیلے ہوتے ہیں جنہیں ہونٹ کے نیچے رکھا جاتا ہے۔ ان میں تمباکو شامل نہیں ہوتا لیکن نکوٹین موجود ہوتی ہے، جو نشے کی عادت پیدا کر سکتی ہے۔ بھارت میں بعض نکوٹین متبادل مصنوعات، جیسے پیچ اور چیونگم، منظور شدہ ہیں، تاہم نکوٹین پاؤچز کو منظوری حاصل نہیں اور حکام کے مطابق ان کی بڑی مقدار اسمگلنگ کے ذریعے ملک میں پہنچتی ہے۔
جون میں ہونے والی ایک وفاقی تحقیق میں نکوٹین پاؤچز کو صحتِ عامہ کے لیے تیزی سے بڑھتا ہوا اور بڑی حد تک غیر منظم مسئلہ قرار دیا گیا تھا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ 18 سے 40 سال کی عمر کے افراد میں زِن اور وائٹ فاکس جیسے برانڈز کا استعمال سامنے آیا ہے۔ وزارتِ صحت نے خاص طور پر بچوں کے نکوٹین کے سامنے آنے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
بھارت کے مرکزی ادویات مشاورتی بورڈ نے بھی رواں ماہ سفارش کی ہے کہ عوامی مفاد میں نکوٹین کی کسی نئی قسم کی منظوری نہ دی جائے۔ بورڈ کے مطابق نکوٹین پاؤچز نشے کی عادت پیدا کرتے ہیں، ان سے الگ صحت کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور انہیں سگریٹ چھوڑنے کے مؤثر ذریعے کے طور پر ثابت نہیں کیا گیا۔
اس معاملے نے رواں سال اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب ممبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی ڈیوٹی فری دکانوں میں نکوٹین پاؤچز کی فروخت سامنے آئی۔ بھارتی تحقیقات میں اسے قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا، جبکہ متعلقہ کاروباری گروپ نے کسی غلط اقدام کی تردید کی تھی۔ بھارتی عدالت نے بھی حال ہی میں یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ ڈیوٹی فری دکانیں ملکی قوانین سے مستثنیٰ ہیں۔