سنٹرل ایشیا-امریکا سمٹ: ازبکستان اور امریکا کے درمیان 100 ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ امریکا اور ازبکستان کے درمیان متعدد شعبوں میں ایک بڑا تجارتی معاہدہ طے پایا ہے۔

صدر ٹرمپ نے لکھا کہ آئندہ تین برسوں میں ازبکستان امریکا کے اہم شعبوں ، بشمول معدنیات، ہوابازی، آٹو پارٹس، بنیادی ڈھانچے، زراعت، توانائی و کیمیکلز، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تقریبا35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور خریداری کرے گا، جبکہ اگلے دس برسوں میں یہ رقم 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔

انہوں نے ازبک صدر شوکت مرزائیوف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان طویل اور نتیجہ خیز تعلقات کے منتظر ہیں۔

یہ اعلان اس ملاقات کے بعد سامنے آیا جو وائٹ ہاؤس میں وسطی ایشیا کے پانچ ممالک ، ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، اور ترکمانستان کے رہنماؤں کے ساتھ ہوئی۔ اجلاس میں نایاب ارتھ معدنیات پر توجہ دی گئی جو جدید ٹیکنالوجی، جیسے اسمارٹ فونز، الیکٹرک گاڑیوں اور لڑاکا طیاروں کی تیاری کے لیے ناگزیر ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہاکہ یہ وہ ممالک ہیں جو کبھی مشرق اور مغرب کو جوڑنے والے قدیم شاہراہِ ریشم کا حصہ تھے، لیکن افسوس کہ سابقہ امریکی صدور نے اس خطے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔

اس اجلاس سے قبل نائب وزیرِ خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ اور جنوبی و وسطی ایشیا کے لیے صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اور بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے ازبکستان اور قازقستان کا دورہ کیا تاکہ سربراہ اجلاس کی تیاری کی جا سکے۔

Author

اپنا تبصرہ لکھیں