مختلف قبیلوں کی عجیب رسومات جن پر یقین کرنا مشکل ہے

رسومات کا تعلق یا تو مذہب سے ہوتا ہے یا پھر ثقافت سے۔ ہر علاقے، قبیلے حتیٰ کہ ہر خاندان میں پائی جانے والی رسمیں دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ شادی بیاہ، موت اور بچوں کی پیدائش کی یہ رسومات ان کے ماننے والوں کیلئے تو بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں جبکہ دیگر لوگوں کو عجیب محسوس ہوتی ہیں۔ زمانے نے اپنے انداز بدلے تو کئی روایات نے بھی دم توڑ دیا اور ان کے ماننے والوں نے بھی انہیں ساتھ لے کر چلنا مناسب نہیں سمجھا۔ لیکن ابھی بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنی ان رسومات سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زمانے میں جب دنیا ایک عالمی گاؤں بن چکی ہے کسی بھی ملک اس کی ثقافت اور رسم و رواج کے بارے میں جاننا مشکل نہیں رہا۔ ذیل میں بھی کچھ ایسی رسومات کا ذکر کیا جارہا ہے جو پڑھنے میں شاید ا?پ کو بھی عجیب و غریب محسوس ہوں لیکن ان کو ماننے والے آج بھی موجود ہیں۔

بیٹی کی پیدائش پر 111 نئے پودے لگائے جاتے ہیں
اگرچہ ہندو مذہب میں لڑکیوں کی پیدائش پر خوشی کا اظہار نہیں کیا جاتا لیکن بھارت کی ریاست راجھستان میں بیٹی کی پیدائش کی خوشی میں علاقے میں ایک سو گیارہ نئے پودے لگائے جاتے ہیں۔اگر سالانہ ساٹھ لڑکیاں پیدا ہوں تو گاؤں والے ایک سال میں ڈھائی لاکھ درخت اگا لیتے ہیں۔ گاؤں والوں کا ماننا ہے کہ جس طرح لڑکیاں بڑی ہو کر خاندان کو بڑھاتی اور پروان چڑھاتی ہیں ویسے ہی درخت بھی ان کے ساتھ بڑے ہوکر پھل دینے لگتے ہیں۔

بچوں کے اوپر سے کودنا
سپین میں یہ روایت سولہویں صدی سے چلی ا?رہی ہے، سال میں ایک دن’’کیتھولک ضیافت‘‘نامی یہ تہوار منایا جاتا ہے جس میں سال بھر میں پیدا ہونے والے بچوں کو سڑک پر لیٹا دیا جاتا ہے اور ایک شخص شیطان کا روپ دھار کر ان ے اوپر سے کودتا ہے۔وہاں کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے بچے زندگی بھر مصیبتوں اور خطرناک بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔

مردے سے بھیک منگوانا
انڈونیشیا کے قبائلی علاقوں میں مردے کو دفن کرنے سے پہلے مدفن کے اخراجات اور کھانے کیلئے چندہ جمع کرنے کیلئے مردے کو ہی اپنے لئے بھیک مانگنا پڑتی ہے، اور وہ یہ کام لیٹے لیٹے نہیں کرتا بلکہ اس کے عزیز و اقارب مردے کو سہارا دے کر چلاتے ہیں اور جس جس گلی یا بازار سے مردہ گزرتا ہے لوگ اسکو پیسے دیتے ہیں اس طرح مردہ اپنے دفن کے اخراجات خود اکٹھے کرتا ہے۔

لڑکیوں کے پاؤں موڑنا
چین میں لڑکیوں کے چھوٹے اور مڑے ہوئے پاؤں خوبصورتی کی علامت سمجھے جاتے ہیں،اسی لئے چھوٹی عمر کی لڑکیوں کے پاؤں زیادہ لمبے نہ ہوں انہیں موڑ کر باندھ دیا جاتا تھا اور پھر سالوں تک اس کے پاؤں ایسے ہی بندھے رہتے ل ڑکی جب بالغ ہو جاتی تو اس کے پاؤں سے یہ پٹی ہٹا دی جاتی ہے۔ یہ رواج امیر خاندانوں کی لڑکیاں اپناتی ہیں جبکہ غریب خاندانوں میں صرف گھر کی بڑی لڑکی کے پاؤں اس طرح باندھے جاتے ہیں تاکہ اس کی شادی کسی امیر شخص کے ساتھ کی جا سکے جس سے اس کے گھر والوں کی بھی مالی مدد ہو جائے وگرنہ وہ عورتیں جو محنت مزدوری کرتی ہیں وہ ان بندھے ہوئے پیروں کے ساتھ ایک قدم بھی چل نہیں سکتیں۔ جب لڑکی کے پاؤں سائز میں چھوٹے ہو جاتے اور مڑ جاتے ہیں تب وہ ’’لوٹس‘‘ایک خاص قسم کا جوتا پہننے کے قابل ہو جاتی ہیں۔

آسمانی مدفن
چین کے صوبے تبت،شنگھائی،سیچوان اور منگولیہ میں لاشوں کو دفنانے کی بجائے کھلے میدانوں میں جانوروں اور پرندوں کے کھانے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان قبائلیوں کا ماننا ہے کہ جس طرح پرندے اور جانور ہمارے لئے خوراک کا ذریعہ بنتے ہیں کیوں نہ جسم سے جب روح نکل جائے تو ہم بھی ان کیلئے خوراک کا بندوبست کر دیں۔ بدھ ازم کے ماننے والوں کے مطابق موت کے بعد جسم کی کوئی اہمیت نہیں،روح کے بعد جسم ایک خالی برتن ہے۔ شنگھائی اور تبت میں زمین سخت ہے، وہاں گڑھا کھودنا ایک مشکل امر ہوتا ہے اس لئے بھی لوگ کھلے ا?سمان تلے مردوں کو چرند پرند کے کھانے کیلئے چھوڑ ا?تے ہیں۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں