حال ہی میں برطانیہ میں کیے گئے ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تقریباً 16 لاکھ افراد نے وزن کم کرنے کے لیے انجیکشنز استعمال کیے۔ یہ انجیکشنز خاص طور پر GLP-1 گروپ کی دواؤں جیسے ویگووی اور ماون جارو کی صورت میں زیادہ مقبول ہوئی ہیں۔ تاہم، اس سروے کے نتائج نے یہ بھی ظاہر کیا کہ ان افراد میں سے ہر ساتویں شخص ایسی دوائیں استعمال کر رہا تھا جو وزن کم کرنے کے لیے سرکاری طور پر منظور شدہ نہیں ہیں۔
وزن کم کرنے والی دواؤں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی بڑی وجہ لوگوں کی جلدی میں جسمانی وزن کم کرنے کی خواہش ہے، اور بیشتر افراد یہ دوائیں بغیر کسی طبی نسخے کے خرید کر استعمال کر لیتے ہیں۔ یونیورسٹی کالج لندن (UCL) کے محققین نے اس تحقیق میں 5,260 افراد کو شامل کیا اور معلوم کیا کہ اس سال تقریباً 33 لاکھ افراد وزن کم کرنے والی دوائیں استعمال کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔
سروے کے مطابق 2.9 فیصد شرکاء نے GLP-1 دوائیں وزن کم کرنے کے لیے استعمال کیں، جو ملک بھر میں تقریباً 16 لاکھ افراد کے برابر بنتی ہیں۔ ان میں سے تقریباً 15 فیصد افراد نے ایسی دوائیں استعمال کیں جو وزن کم کرنے کے لیے منظور شدہ نہیں ہیں، یعنی یہ دوائیں ‘آف-لیبل’ ہیں۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ بغیر طبی نگرانی کے یا نسخے کے یہ دوائیں استعمال کرنے سے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان میں جسمانی اور حیاتیاتی پیچیدگیاں شامل ہیں، جو دل، جگر، گردے اور دیگر اعضا کی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔
تحقیق کے نتائج ایک واضح انتباہ ہیں کہ وزن کم کرنے کے لیے دواؤں کا استعمال ہمیشہ ماہرین کے مشورے اور طبی نگرانی کے تحت ہونا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کو اپنی صحت کو محفوظ رکھنے کے لیے ان دواؤں کے غیر قانونی یا غیر منظور شدہ استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے، اور صرف مجاز طریقوں سے وزن کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے