متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان پیر کے روز ساڑھے تین گھنٹے کے مختصر سرکاری دورے پر بھارت پہنچے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی نے خود ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ دورہ وزیراعظم مودی کی دعوت پر ہوا جس کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، توانائی، دفاع اور خطے کی مجموعی صورتحال سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
بھارتی خارجہ سیکریٹری وکرم مصری نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دورہ مختصر تھا، تاہم اس دوران کئی اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ان میں سٹریٹجک دفاعی شراکت داری کا فریم ورک، سول نیوکلیئر تعاون، خلائی شعبے میں مشترکہ منصوبے اور گجرات کے دھولیرا میں خصوصی سرمایہ کاری زون کے قیام جیسے اقدامات شامل ہیں۔
خلائی شعبے کے حوالے سے دونوں ممالک نے نئے لانچ کمپلیکس، سیٹلائٹ بنانے کے یونٹس، مشترکہ خلائی مشنز اور تربیتی مراکز قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ توانائی کے شعبے میں یو اے ای کی جانب سے بھارت کو سالانہ پانچ لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی فراہم کرنے کا معاہدہ طے پایا جس کے بعد یو اے ای بھارت کا دوسرا سب سے بڑا ایل این جی فراہم کنندہ بن گیا ہے۔ اس کے علاوہ انڈین پیٹرولیم کارپوریشن اور ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی گیس کے درمیان فروخت و خریداری کا معاہدہ بھی طے ہوا۔
وکرم مصری کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے یمن میں کشیدگی، غزہ کی صورتحال، ایران اور ٹیرف سے متعلق عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ تاہم، ملاقات کا زیادہ زور دو طرفہ تعلقات پر رہا۔ وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ دونوں ممالک نے 2032 تک باہمی تجارت کو 200 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ابوظہبی میں ’ہاؤس آف انڈیا‘ کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، جو ایک ثقافتی مرکز کے طور پر کام کرے گا۔
وکرم مصری نے صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات میں ایران، سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان یمن میں کشیدگی اور غزہ امن بورڈ جیسے امور پر بھی بات ہوئی