امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ، ممکنہ طور پر امریکی کرپٹو اسٹریٹجک ریزرو میں شامل کیے جانے والے پانچ ڈیجیٹل اثاثوں کے نام سامنے آ گئے ہیں۔ اس اعلان کے بعد ان کرپٹو کرنسیوں کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ، جنوری میں جاری کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکی کرپٹو ذخیرے میں بٹ کوائن، ایتھر، ایکس آر پی، سولانا (ایس او ایل) اور کارڈانو (اے ڈی اے) کو شامل کیا جائے گا۔ اس سے پہلے ان کرنسیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔ ٹرمپ کے اعلان کے بعد، اتوار کے روز کاروبار کے دوران ان ڈیجیٹل اثاثوں کی قیمتوں میں 8 سے 62 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اپنے بیان میں، ٹرمپ نے واضح کیا کہ، ان کے حکم نامے کے تحت صدارتی ورکنگ گروپ کو کرپٹو اسٹریٹجک ریزرو پر کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس میں ایکس آر پی، سولانا اور کارڈانو شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ، میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ، امریکا دنیا کا کرپٹو دارالحکومت بنے۔
اس اعلان کے تقریبا ایک گھنٹے بعد، ٹرمپ نے ایک اور پوسٹ شیئر کی، جس میں کہا کہ ،ظاہر ہے کہ، بٹ کوائن اور ایتھر، دیگر قیمتی کرپٹو کرنسیوں کی طرح، امریکی کرپٹو ریزرو کا مرکزی حصہ ہوں گی۔ اس بیان کے بعد، بٹ کوائن کی قیمت فوری طور پر 8 فیصد بڑھ کر 90 ہزار 828 ڈالرز تک جا پہنچی، جبکہ ایتھر کی قیمت 8.3 فیصد اضافے کے بعد 2 ہزار 409ڈالرز پر بند ہوئی۔
2024 کے انتخابات کے دوران، ٹرمپ نے کرپٹو انڈسٹری کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور اب وہ اپنی پالیسیوں کے نفاذ کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کے برعکس، سابق صدر، جو بائیڈن کے دور میں ریگولیٹری اداروں نے امریکی عوام کو دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ سے بچانے کے لیے کرپٹو صنعت پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔
تاہم، حالیہ ہفتوں میں کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ ٹرمپ کی انتخابی جیت کے بعد، کچھ بڑی ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا، لیکن بعد میں ان کی قدر میں نمایاں کمی آئی، جس سے اس صنعت میں پیدا ہونے والا جوش و خروش ماند پڑ گیا۔
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ، کرپٹو کی قیمتوں میں استحکام کے لیے کچھ ٹھوس وجوہات درکار ہیں، جیسے کہ، امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کے اشارے یا ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کرپٹو کے لیے ایک واضح اور معاون پالیسی فریم ورک۔
ٹرمپ جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں پہلے کرپٹو سمٹ کی میزبانی کریں گے۔ ان کی فیملی بھی کرپٹو کرنسی کی دنیا میں داخل ہو چکی ہے اور اپنے ڈیجیٹل کوائنز لانچ کر چکی ہے۔
یہ ابھی واضح نہیں کہ، امریکی کرپٹو اسٹریٹجک ریزرو کو کیسے تشکیل دیا جائے گا اور اس کا عملی طریقہ کار کیا ہوگا۔ قانونی ماہرین اس معاملے پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ، کانگریس کی منظوری درکار ہوگی، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ، امریکی خزانے کا ‘ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فنڈ’ اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو غیر ملکی کرنسیوں کی خرید و فروخت کے لیے مختص ہے۔
ٹرمپ کے کرپٹو گروپ نے تجویز دی ہے کہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ضبط کی گئی کرپٹو کرنسیوں کو ممکنہ طور پر اس ریزرو میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کے اعلان کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پیر کے روز، بٹ کوائن کی قیمت گزشتہ ہفتے کی کم ترین سطح کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ دیکھی گئی۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد کئی دیگر کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ، جنوری کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت امریکی کرپٹو ذخیرے میں بٹ کوائن، ایتھر، ایکس آر پی، سولانا اور کارڈانو شامل کیے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد، سرمایہ کاروں میں جوش و خروش دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں کرپٹو مارکیٹ میں نئی جان پڑ گئی۔