امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک تقریباً ایک سال بعد دوبارہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ بیجنگ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ امریکی کاروباری حلقوں کے نمائندے کے طور پر نظر آئے۔
بیجنگ میں چین کے عظیم عوامی ہال میں ہونے والی ملاقات کے دوران ایلون مسک امریکی وزرا اور دیگر کاروباری رہنماؤں کے ساتھ موجود تھے، جب صدر ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔
امریکی ٹیرف پالیسیوں نے چین میں ایلون مسک کے کاروباری مفادات کو متاثر کیا ہے۔ اگرچہ ماضی میں ٹرمپ اور مسک کے درمیان اختلافات سامنے آ چکے ہیں، تاہم اس دورے میں دونوں ایک بار پھر قریب دکھائی دیے۔
ایپل کے سبکدوش ہونے والے سربراہ ٹم کک اور این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ایلون مسک نے صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا کہ ’بہت سی اچھی چیزیں حاصل ہوئی ہیں۔‘
مسک اپنے چھ سالہ بیٹے ایکس اے اے-12 کو بھی بیجنگ ساتھ لائے، جو اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر وائٹ ہاؤس میں اپنے والد کے ہمراہ دکھائی دے چکے ہیں۔
چین، ٹیسلا کے لیے امریکہ کے بعد سب سے اہم مارکیٹ ہے۔ ٹیسلا کی نصف گاڑیاں چین میں تیار کی جاتی ہیں، جن میں سے زیادہ تر دنیا کے دیگر ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں۔
تاہم حالیہ برسوں میں ٹیسلا کو چین میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ چینی کمپنی بی وائی ڈی اب دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی بن چکی ہے جبکہ چینی صارفین کو کم قیمت پر متعدد مقامی متبادل دستیاب ہیں۔
ایلون مسک کی دیگر کمپنیوں کو بھی چینی کمپنیوں سے سخت مقابلہ درپیش ہے، جنہیں سرکاری بینکوں کی مالی حمایت حاصل ہے۔ چین گزشتہ کئی دہائیوں سے قابلِ تجدید توانائی، بیٹریوں اور الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
چین کی کمپنی ’کیٹل‘ اس وقت دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے اور ٹیسلا کو بھی بیٹریاں فراہم کرتی ہے۔
چینی حکومت نے بھی ٹیسلا پر بعض پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
یاد رہے کہ ایلون مسک نے گزشتہ سال امریکی حکومت کی اصلاحاتی مہم سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس سے قبل وہ 2024 کے صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے لیے تقریباً 30 کروڑ ڈالر خرچ کر چکے تھے۔
جون میں دونوں شخصیات کے درمیان سوشل میڈیا پر سخت بیانات کا تبادلہ بھی ہوا تھا، تاہم اب بیجنگ میں دونوں ایک بار پھر ایک ہی ساتھ نظر آئے۔