برطانیہ کی حکومت نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ، ہزاروں افغان شہریوں، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے برطانوی افواج کے ساتھ کام کیا تھا، کو خفیہ طور پر برطانیہ میں دوبارہ آباد کیا گیا۔ یہ اقدام ایک ڈیٹا لیک کے بعد کیا گیا جس میں ان افغان شہریوں کی ذاتی معلومات افشا ہو گئی تھیں، جس کے باعث خدشہ تھا کہ، طالبان ان کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہاکہ، جن افراد کی معلومات افشا ہوئیں، میں آج ان سے مخلصانہ معذرت چاہتا ہوں۔ میں اس بات پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں کہ، یہ معاملہ خفیہ رکھا گیا، اور پارلیمنٹ اور عوام کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارےایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ہیلی نے بتایا کہ، 2022 میں وزارت دفاع کے ایک اہلکار کی ای میل میں غلطی کے باعث تقریبا19,000 افغان درخواست گزاروں کا ذاتی ڈیٹا افشا ہو گیا۔ حکومت کو اس کا علم اس وقت ہوا جب 18 ماہ بعد کچھ معلومات فیس بک پر شائع ہوئیں۔
اس وقت کی کنزرویٹو حکومت نے عدالت سے ‘سپر انجنکشن’ حاصل کی، جو نہ صرف معلومات شائع کرنے سے روکتی ہے، بلکہ اس کے وجود کا ذکر کرنے سے بھی منع کرتی ہے۔ اس حکم امتناعی کا مقصد مزید معلومات کے افشا کو روکنا تھا۔
اس کے بعد حکومت نے ایک خفیہ پروگرام کے تحت ان افغان شہریوں کو محفوظ طریقے سے برطانیہ منتقل کیا، جنہیں طالبان کی جانب سے سب سے زیادہ خطرہ لاحق تھا۔ موجودہ لیبر حکومت نے اس پروگرام کو عوام کے سامنے لاتے ہوئے عدالت سے سپر انجنکشن ختم کروائی۔
ایک آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ، لیک شدہ معلومات سے طالبان کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچا کیونکہ وہ پہلے ہی دیگر ذرائع سے ایسے افراد کی معلومات حاصل کر چکے تھے، اور ان کی توجہ اب موجودہ خطرات پر زیادہ مرکوز ہے۔
اب تک 4,500 افغان شہری (900 درخواست دہندگان اور 3,600 کے قریب اہل خانہ) کو اس خفیہ پروگرام کے تحت برطانیہ لایا جا چکا ہے۔ پروگرام کے اختتام تک یہ تعداد تقریبا6,900 ہو جائے گی اور اس پر مجموعی طور پر 850 ملین پاؤنڈ (تقریبا1.1 ارب ڈالر) لاگت آئے گی۔ 2021 کے بعد سے دیگر راستوں کے تحت تقریبا36,000 افغان شہریوں کو برطانیہ میں آباد کیا جا چکا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ، اب بھی ہزاروں افراد جو برطانوی افواج کے ساتھ ترجمان یا دیگر کرداروں میں کام کرتے رہے ہیں، شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
وکیل شان ہمبر نے اس ڈیٹا لیک کو ‘تباہ کن’ قرار دیا اور کہا کہ، اس سے متاثرہ افراد کو شدید ذہنی اذیت، خوف اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
برطانیہ میں افغانستان اور وسطی ایشیا کی ایسوسی ایشن کے بانی نورالحق نسیمی نے کہا کہ ،ہزاروں افغان شہریوں نے برطانیہ پر بھروسا کیا اور اس مشن میں ساتھ دیا، لیکن ان کا اعتماد بری طرح ٹوٹا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ، متاثرین کو مؤثر معاوضہ دیا جائے اور جو اب بھی خطرے میں ہیں ان کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ، برطانوی افواج نے نائن الیون کے بعد افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف بین الاقوامی مشن کا حصہ بن کر کارروائیاں کیں۔ 2014 میں برطانیہ نے جنگی آپریشن ختم کر دیے اور 2021 میں باقی ماندہ فوجیوں کو واپس بلا لیا گیا، جب طالبان نے ایک بار پھر اقتدار سنبھالا۔
اس کیس میں استعمال ہونے والا ‘سپر انجنکشن’ اپنی نوعیت کا پہلا حکومتی کیس ہے، جو پہلے صرف مشہور شخصیات کے نجی معاملات چھپانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
ہائی کورٹ کے جج مارٹن چیمبرلین نے اس حکم امتناعی کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ، اس نے ‘جمہوری احتساب کے معمول کے طریقہ کار کو مکمل طور پر بند کر دیا، جس سے ایک قسم کا ’نگرانی کا خلا‘ پیدا ہو گیا۔