تاشقند بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم، ٹی آئی آئی ایف، وسطی ایشیا کا ایک اہم سرمایہ کاری پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ اس فورم کا آغاز 2022 میں ہوا تھا اور یہ ہر سال ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں منعقد کیا جاتا ہے۔
اس فورم میں عالمی رہنما، حکومتی عہدیدار، سرمایہ کار، کاروباری شخصیات، بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور پالیسی ساز شرکت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد ازبکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور ملک کو خطے کے اہم کاروباری مرکز کے طور پر پیش کرنا ہے۔
اس سال پانچواں تاشقند بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم 16 سے 19 جون 2026 تک تاشقند میں منعقد ہوا۔ فورم کا موضوع “سرمایہ کاری کی مضبوطی: نئی سرحدیں، نئی شراکت داریاں”تھا۔ اس میں تقریباً 100 ممالک سے 7,600 سے زائد شرکا نے شرکت کی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹی آئی آئی ایف 2026 اس لحاظ سے اہم رہا کہ اس نے ازبکستان کی سرمایہ کاری پالیسی میں ایک واضح تبدیلی کو ظاہر کیا۔ پہلے فورمز کا پیغام یہ تھا کہ “ازبکستان میں سرمایہ کاری کریں”، جبکہ اس بار پیغام یہ تھا کہ “ازبکستان کے پاس سرمایہ کاروں کے تحفظ اور معاونت کے لیے ادارہ جاتی نظام موجود ہے۔”
ازبک صدر شوکت مرزائیوف نے فورم سے خطاب میں سرمایہ کاروں کے لیے قانونی ضمانتوں کو مضبوط بنانے، کیپیٹل مارکیٹس کی ترقی، ویلیو ایڈڈ صنعتوں میں سرمایہ کاری، سبز توانائی، مصنوعی ذہانت، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس، علاقائی ترقی، شہری منصوبہ بندی، سیاحت اور زراعت کو ترجیحی شعبوں میں شامل کیا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹی آئی آئی ایف 2026 صرف ایک کاروباری اجتماع نہیں تھا، بلکہ یہ معاشی سفارت کاری کا اہم علاقائی پلیٹ فارم بھی ثابت ہوا۔ اس فورم نے دکھایا کہ ازبکستان اب صرف امکانات رکھنے والا ملک نہیں، بلکہ عملی نتائج دینے والی معیشت کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
اس کامیابی کے پیچھے صدر شوکت مرزائیوف کی اصلاحاتی پالیسیوں کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی قیادت میں ازبکستان نے معیشت کو جدید بنانے، اداروں کو مضبوط کرنے، حکمرانی بہتر بنانے اور عالمی تعاون بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔
فورم میں توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت، ٹیکنالوجی، زراعت، سیاحت اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا گیا۔ ازبکستان کی جغرافیائی اہمیت، نوجوان آبادی، بڑھتی ہوئی منڈی اور علاقائی رابطے اسے سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنا رہے ہیں۔
ازبکستان کے وزیرِ سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لزیز قدرتوف کے کردار کو بھی فورم کی کامیابی میں اہم قرار دیا گیا۔ ان کی قیادت میں ازبکستان نے عالمی سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور کاروباری حلقوں کے ساتھ فعال رابطے بڑھائے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں ازبکستان خاص طور پر قابلِ تجدید توانائی، شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ فورم میں معاشی ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری کے درمیان توازن پر بھی زور دیا گیا۔
انفراسٹرکچر اور علاقائی رابطہ کاری بھی فورم کے اہم موضوعات میں شامل رہے۔ بہتر ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس، لاجسٹکس کوریڈورز اور علاقائی منصوبے ازبکستان کو وسطی ایشیا اور دیگر منڈیوں کے درمیان ایک اہم پل بنا رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹلائزیشن، کاروباری جدت اور اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی ازبکستان کو مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے تیار کر رہی ہے۔