پاکستان بھر میں آج 9 محرم الحرام عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقا کی قربانی کی یاد میں مختلف شہروں میں جلوس اور مجالس کا انعقاد کیا گیا۔
اسلام آباد میں مرکزی جلوس نمازِ ظہر کے بعد جی سکس میں مرکزی امام بارگاہ اثنا عشری سے روانہ ہوا، جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا رات کو اسی مقام پر اختتام پذیر ہو گا۔
کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک سے روانہ ہوا اور امام بارگاہ حسینیہ ایرانی پر اختتام پذیر ہو گا۔ لاہور میں مرکزی جلوس اسلام پورہ سے نکالا گیا، جبکہ پشاور میں مرکزی جلوس امام بارگاہ حسینیہ ہال سے روانہ ہوا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق لاہور میں 81 جلوس اور 386 مجالس منعقد کی جا رہی ہیں۔ پنجاب بھر میں 9 محرم کے موقع پر 70 ہزار سے زائد اہلکار سکیورٹی پر تعینات کیے گئے ہیں۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حکام نے شرکت کی۔
کراچی میں 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ مرکزی جلوس کے راستے پر اضافی نفری، ریزرو فورس اور اسنائپرز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں تقریباً 16 ہزار اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ پولیس، رینجرز اور فوج کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ جلوسوں کی نگرانی کے لیے ڈرونز، کنٹرول رومز، اسکینرز اور جدید بم ڈسپوزل اسکواڈ بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
پشاور میں 12 ہزار پولیس اہلکار محرم جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا بھر میں 43 ہزار سے زائد پولیس اہلکار ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ پشاور میں بی آر ٹی سروس 9 اور 10 محرم کو سکیورٹی وجوہات کے باعث معطل رہے گی۔
سکھر کے شہر روہڑی میں 9 محرم کے جلوس کے دوران دم گھٹنے سے 4 افراد جاں بحق اور 14 معمولی زخمی ہو گئے۔ سندھ کے وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے پولیس، ریسکیو، طبی ٹیموں اور ضلعی انتظامیہ کو مکمل رابطہ کاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں محرم جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ حساس مقامات پر اضافی نفری اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی جاری ہے۔