ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، وہ ایک طرف تو سب سے زیادہ جُڑا ہوا ہے، اور دوسری طرف سب سے زیادہ الجھا ہوا۔ ایک طرف معلومات کا طوفان ہے، تو دوسری طرف معنی کا خشک سالی۔ ہم وقت کو سنبھالنا تو سیکھ چکے ہیں، لیکن زندگی کو سمجھنا بھول گئے ہیں۔ ہمارے پاس کام کرنے کے جدید ذرائع تو موجود ہیں، لیکن مقصدِ حیات کا ادراک نہیں۔ ایسے میں قرآن حکیم کی وہ آواز جو صدیوں سے گونج رہی ہے، آج کے انسان کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔
سورۃ الحشر کی آیات 18 اور 19 دراصل زندگی گزارنے کا ایک مکمل نمونہ پیش کرتی ہیں۔ یہ محض مذہبی ہدایات نہیں، بلکہ ایک گہرا نفسیاتی، فلسفیانہ اور حکمت عملی کا نظام ہے جو انسان کو خود شناسی، زندگی کے مقصد اور اخلاقی بلندی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
پہلا اصول جو ہمیں ان آیات سے ملتا ہے، وہ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ ، یعنی "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو۔” یہ تقویٰ محض ایک جذباتی کیفیت نہیں، بلکہ ایک باشعور طرزِ زندگی ہے۔ آج کے ماہرین نفسیات اسے "ہوشمند نظم و ضبط” اور "اپنے افکار پر غور” کے نام سے جانتے ہیں — یعنی انسان ہر لمحہ اپنے خیالات، فیصلوں اور ارادوں کو اخلاقی ترازو میں تولتا رہے۔
پھر اگلا اصول آتا ہے: وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ — ہر شخص دیکھے کہ اس نے آنے والے کل کے لیے کیا تیار کیا ہے۔ یہاں ‘آنے والا کل’ صرف اگلا دن نہیں، بلکہ وہ ابدی کل ہے جو موت، قیامت اور ہمیشہ کی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ یہ آیت ہمیں جدید منصوبہ بندی، مقصد کا تعین اور وقت کے مؤثر استعمال کی یاد دلاتی ہے، جہاں انسان کو اپنے مقاصد، وسائل اور وقت کو بامقصد انداز میں استعمال کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔
اسی آیت میں دوبارہ تقویٰ کی تاکید کی گئی ہے: وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ — یعنی اللہ سے ڈرو، کیونکہ وہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ یہاں قرآن ہمیں ایک اندرونی جوابدہی کا اصول سکھاتا ہے — وہ اخلاقی رہنما جو ہر وقت انسان کے دل میں موجود رہتا ہے، جو اسے یاد دلاتا ہے کہ کوئی بھی عمل، چاہے وہ دنیا کی نظروں سے چھپ جائے، اللہ کی نظر سے نہیں چھپ سکتا۔
اس کے بعد وہ آیت آتی ہے جو انسان کی ذات کی گہرائیوں میں اترتی ہے: وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ — ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا، تو اللہ نے انہیں خود اپنی ذات سے بھی غافل کر دیا۔ یہ آیت دراصل آج کے دور کے نفسیاتی بے چینی کو واضح کرتی ہے — جب انسان اپنے رب کو بھول جاتا ہے، تو وہ اپنی پہچان، مقصد اور صلاحیتوں سے بھی کٹ جاتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں جدید نفسیات کے نظریات، جیسے کہ خود شناسی، وجودی بحران اور شناخت کی کمی، قرآن کے بیان کردہ اصولوں سے مل جاتے ہیں۔ انسان بیرونی شور میں اتنا الجھ جاتا ہے کہ اپنی اندرونی آواز سننے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔
لیکن ان آیات میں ایک نئی زندگی کا چکر چھپا ہے: اگر تم اللہ کو یاد رکھو گے، اس سے ڈرو گے، اور اپنے مستقبل کی تیاری کرو گے — تو نہ صرف خود کو پا لو گے، بلکہ اپنی حقیقی صلاحیتوں کو بھی دریافت کر لو گے۔ یہی وہ روحانی رہنمائی، جذباتی مضبوطی اور اخلاقی استقامت کا راستہ ہے جو قرآن ہمیں سکھاتا ہے۔
ان آیات سے جو مکمل زندگی کا نمونہ بنتا ہے، وہ کچھ یوں ہے:
1. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا — تم ایک الگ امت ہو، تمہارا نظریۂ حیات، تمہاری اقدار اور تمہارا طریقۂ زندگی عام دنیا سے مختلف ہونا چاہیے۔
2. اتَّقُوا اللَّهَ — باشعور زندگی گزارو، خود کو بے مقصد چیزوں سے بچاؤ، اور ہر وقت اخلاقی بیداری کے ساتھ جیو۔
3. وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ— اپنے آنے والے کل کے لیے آج منصوبہ بندی کرو، نہ صرف اس دنیا کے لیے بلکہ اس ہمیشہ کی زندگی کے لیے بھی۔
4. إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ — اپنے اعمال کی نیت اور خلوص کا خیال رکھو، کیونکہ تمہارا رب تمہاری ہر حرکت سے واقف ہے۔
5. نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ — اللہ کو بھول جانا دراصل خود کو بھول جانے کے برابر ہے — اور یہی سب سے بڑی تباہی ہے۔
خلاصہ:
قرآن ہمیں زندگی کا وہ نمونہ دیتا ہے جو مقصد، منصوبہ بندی، عمل اور پاکیزگی پر مبنی ہے۔ یہ نمونہ نہ صرف آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے، بلکہ دنیا میں اطمینان، کامیابی اور ترقی کی کنجی بھی ہے۔