ظلم کا نظام

جب ہم گئے وقتوں کی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو یہی خیال آتا ہے کہ ذرائع ابلاغ نہیں تھے، بادشاہوں کا زمانہ تھا، انفرادی آزادی کا فقدان تھا اور تاریخ لکھنے میں بے حد دشواریاں تھیں۔ یعنی معلومات بھی درست دستیاب نہ ہوتی تھیں، لکھنے والے بھی بادشاہوں کے قصیدے ہی لکھتے تھے، اگر کوئی اپنے تئیں سچ لکھتا بھی ہوگا تو اُس کی بات لکھنے والے سمیت دفن کر دی جاتی تھی۔ مگر گئے وقتوں کو چھوڑیئے، سوشل میڈیا اور آئی ٹی کے عروج کے زمانے میں آ جائیے۔ کوئی واقعہ پیش آ جاتا ہے تو ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس کے پیچھے حقیقت کیا ہے؟ تب رعایا کی حیثیت غلاموں کی سی ہوتی تھی۔ کہ حکمران جو چاہتے وہی ہوتا، مخالف کا وجود ختم کر دیا جاتا، خواہ وہ حکمران کا بھائی یا باپ بھی کیوں نہ ہوتا۔

اب قرار دیا جاتا ہے کہ میڈیا آزاد ہے۔ لوگوں کو اپنی مرضی کے حکمران منتخب کرنے کی بھی آزادی حاصل ہے۔ معاشرے میں وہ اپنی محدود سرگرمیوں کو آزادی سے جاری رکھ سکتا ہے۔ مگر یہ آزادیاں اب حقیقی معانوں میں اپنا وجود کھو چکی ہیں۔ اب بھی حکمرانوں اور عوام میں اس قدر خلا پیدا ہو چکا ہے کہ قدیم زمانے کی یاد تازہ ہو رہی ہے۔ موجودہ حکمران بھی اپنی “رعایا” سے اُسی طرح دُور ہیں، جیسے سیکڑوں برس قبل ہوتے تھے۔ تب وہ محلات کے جھروکوں سے محکوموں کو اپنی جھلک دکھایا کرتے تھے، اب یہ کام میڈیا کے ذریعے سرانجام دیا جاتا ہے، یا کبھی سیاسی جلسہ وغیرہ کرنے پر عوام اپنے آقاؤں کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے تین درجن گاڑیاں تو کم از کم ہوں تو حرکت ممکن ہوتی ہے۔ حکمران پروٹوکول کے نشے میں دُھت ہو کر گزر رہے ہوتے ہیں اور دیکھنے والے خون کے گھونٹ پی رہے ہوتے ہیں، وہ گاڑیوں کی ویڈیوز بناتے ہیں، اُن کی تعداد گنتے ہیں اور گنتی اور شمار کے بغیر حکمرانوں کو مغلظات سے نوازتے ہیں۔

صرف پروٹوکول کا معاملہ نہیں۔ اب تو حکومت کے تمام تر معاملات عوام دشمنی پر مبنی ہوتے ہیں۔ پٹرول کو ہی لے لیجئے، کسی زمانے میں کئی کئی مہینوں کے بعد قیمت میں معمولی اضافہ ہوتا تھا۔ اب یہ عمل غیر معمولی ہو گیا، کہ ہر روز رات سونے سے قبل آپ یہ جان سکتے ہیں کہ کل پٹرول کی قیمت کیا ہوگی۔ ستم یہ کہ جتنے دنوں سے “روزانہ” کی بنیاد پر قیمتوں میں ردوبدل شروع ہوا ہے، صرف ایک روز قیمت کم ہوئی وہ بھی محض 35 پیسے (شرمناک) ۔ ورنہ ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ پٹرولیم کے معاملے میں جہاں عوام کی مکمل بے حسی سامنے آرہی ہے، وہیں پر حکمرانوں کی ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ نہ صرف بلا جواز قیمتوں میں اضافہ کر رہے ہیں، بلکہ لیوی کے نام پر فی لیٹر ایک سو روپے سے زائد عوام کے خون سے نچوڑ رہے ہیں۔ پٹرولیم کے وفاقی وزیر نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں بتایا کہ 1700 ارب روپے صرف لیوی کی مد میں حاصل کرنا ہمارا ٹارگٹ ہے۔

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا کہنا ہے کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہاں تو صورتِ حال یہ ہے کہ وفاقی کابینہ میں ردوبدل کی خبروں کے ساتھ نئے وزراء بنائے جانے کی بھی اطلاع ہے۔ ممکن ہے ایک آدھ وزارت ختم بھی کر دی جائے، مگر اس وقت وزیروں، وزرائے مملکت، مشیروں اور پارلیمانی سیکریٹریز کی تعداد 5 درجن سے بھی زائد ہے، یہ ملک کی کونسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں؟ سوائے ان کی ذاتی مراعات اور عیاشیوں کے، عوام پر اکثر بوجھ ہیں۔

گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے بیوروکریسی کے لئے دو ارب روپے کے قریب “سپیشل الاؤنس ” کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اس وقت پاکستان میں حقیقی معانوں میں حکومت بیوروکریسی کی ہی ہے۔ منتخب نمائندے اپنی تمام تر حیثیت کھو چکے ہیں۔ کابینہ کے پاس خود اس بات کا کوئی جواب اور جواز نہیں کہ افسر شاہی کی عیاشیوں میں یہ خصوصی اضافہ کس خدمت کے بدلے میں دیا جارہا ہے؟ اب پاکستانی عوام (جوکہ غلاموں کا اصلی روپ دھار چکے ہیں) افسر شاہی کے ہاتھوں مکمل بے بس ہو چکے ہیں۔ اب اکثر محکمہ جات عوام کی ہڈیوں سے فنڈز کشید کرنے کے ذمہ دار بن چکے ہیں۔ جس محکمے نے جو حکم جاری کر دیا وہ حرفِ آخر ہے۔ جو بِل صارفین کو بھیج دیا، اس کی ادائیگی فرضِ عین ہے۔ عوام میں نہ اتحاد ہے اور نہ قیادت کا وجود۔ اُن کے قائدین (منتخب نمائندے) بذاتِ خود افسر شاہی کی خوشامد پر مامور ہیں، اور اپنی بات منوانے میں مکمل بے اختیار۔

عوام کی جیبیں خالی کروانا حکومت کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ پٹرول سے اربوں روپے کمائے جارہے ہیں۔ واسا اور کارپوریشنز کے ذریعے اربوں کے ہی نئے ٹیکس وصولے جارہے ہیں۔ ٹول پلازوں کی کہانی یہ ہے کہ دو ہی سالوں میں 30 سے 50 اور 70 سے ہوتے ہوئے اب 100 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ موٹر ویز کے ٹول پلازوں کی داستاں مزید گھمبیر ہے۔ چالانوں کا کیا ہی کہنا، کہ جو چالان دو 100 روپے ہونا چاہیے وہ 2 ہزار ہے۔ چونکہ حکمران خود اربوں پتی ہیں اور قومی خزانے سے تمام تر سہولتوں پر دسترس رکھتے ہیں، اس لئے دو چار سو کا حساب اُنہیں آتا ہی نہیں۔

سوچنے والی بات یہ ہے کہ عوام سے لوٹے گئے اربوں روپے آخر جاتے کہاں ہیں؟ کیا اس سے ملک میں کسی قسم کی ترقی ہو رہی ہے؟ یا اس سے غیر ملکی قرضے اتر رہے ہیں؟ یا عوام کو کچھ سہولیات دی جارہی ہیں؟ ایسا کچھ بھی نہیں، عوام سے وصول کیا گیا تمام روپیہ منتخب نمائندوں اور افسر شاہی کی لاکھوں کی تنخواہوں، مراعات اور عیاشیوں پر خرچ ہو رہا ہے۔ پاکستان اس وقت واضح طور پر دو طبقوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ افسر شاہی، حکمران اور سرمایہ دار طبقہ، جو دن بہ دن مزید سے مزید امیر ہو رہے ہیں۔ اور دوسرے عوام جو غربت کی لکیر سے نیچے کی طرف لُڑھک رہے ہیں، دونوں طبقے اپنے اپنے سفر پر بہت تیزی سے رواں دواں ہیں۔ یہ بڑھتا ہوا خَلا خوفناک ٹکراؤ کا پیش خیمہ بننے کو ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں