سرمایہ دارانہ نظام کی چالاکیاں

آج کل ہر طرف سرمایہ داروں کا راج ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور سرمایہ داروں نے انسانیت کا خون چوسنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر نئے بہانے تراش رکھے ہیں۔ اگر روزمرہ کے اخراجات کی فکر سے تھوڑا سا آزاد ہو کر غور کیا جائے تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ محلے کے ایک معمولی سرمایہ دار سے لے کر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان اور بڑے بڑے سرمایہ داروں تک، سب ہمیں کس طرح دن رات نت نئے طریقوں سے نچوڑ رہے ہیں، بلکہ انسانیت کا خون چوس رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کے پاس یہ کام کرنے کے لیے چھوٹی سی دکان ہے اور کسی کے پاس پوری ایک کمپنی، لیکن طریقۂ واردات کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے ملتا جلتا دکھائی دیتا ہے۔

اسی بات کو سمجھنے کے لیے ذرا اپنی روزمرہ زندگی پر نظر ڈالیں۔ شروع شروع میں جب موبائل فون پاکستان کی حدود میں داخل ہوا تو اس کا ماہانہ بل ہزاروں روپے میں آتا تھا۔ سننے اور سنانے کے الگ چارجز تھے۔ اس وقت بمشکل اشرافیہ کے چند افراد ہی اسے استعمال کر پاتے تھے۔ پھر ایک ہزار روپے کا کارڈ ملنے لگا اور استعمال میں اضافہ شروع ہو گیا۔ چند دن بعد چھ سو روپے کا کارڈ ملنا شروع ہوا تو مزید لوگوں نے اسے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ لوگوں نے اسے سہولت سمجھا اور خوشی خوشی قبول کیا۔ اب تک لوگ یہ سوچتے تھے کہ یار! مہینے کے آخر میں یا پھر پندرہ دن بعد کارڈ خریدا کریں گے۔ لیکن سرمایہ دار اتنی دیر صبر نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے کارڈ سو روپے کا کر دیا۔ ہم نے دیکھا کہ مزدور ڈیڑھ سو سے دو سو روپے دیہاڑی لیتا تھا اور روزانہ سو روپے کا لوڈ ڈلوانے لگا۔ یعنی جو سہولت پہلے چند لوگوں تک محدود تھی، اب اسے اتنا سستا اور آسان بنا دیا گیا کہ کم آمدنی والا طبقہ بھی اس کا مستقل صارف بن گیا۔

مگر ابھی بھی سرمایہ دار کو چین نہ آیا۔ سو روپے کا خرچ بھی شاید اسے بہت زیادہ محسوس ہونے لگا، اس لیے اگلا قدم یہ اٹھایا گیا کہ خرچ کو مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اس نے بیس، تیس روپے کے بیلنس کی سہولت بھی شروع کر دی، سم بالکل فری کر دی، بلکہ بیلنس نہ ہونے کی صورت میں آپ کے ڈائل کیے گئے نمبر پر مس کال کی سہولت بھی فراہم کر دی۔ اس طرح روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں لوگوں سے اربوں روپے کمانا شروع کر دیے گئے۔ جو شخص ہزار یا سو روپے کا کارڈ مہینہ بھر کے لیے استعمال کرتا تھا، اب بیس بیس، تیس تیس روپے کر کے دن میں سو، دو سو روپے پھونک لیتا ہے۔ بظاہر رقم چھوٹی ہے، مگر جب یہی چھوٹی رقم کروڑوں لوگوں سے وصول ہو تو حساب لگانے والا بھی حیران رہ جاتا ہے۔

اور یہی طریقہ صرف موبائل فون تک محدود نہیں۔ جب ایک چھوٹے سے خرچ کو بار بار کروانے کا طریقہ کامیاب ہو جائے تو یہی نسخہ دوسری ضروریاتِ زندگی پر بھی آزمایا جاتا ہے۔ گھی والوں کو دیکھ لیں۔ کبھی دس کلو کا ٹین ملا کرتا تھا، پھر پانچ کلو کا ڈبہ اور پھر ایک کلو کا پیکٹ۔ اب ماشاء اللہ ایک پاؤ اور آدھے پاؤ کا پیکٹ بھی دستیاب ہے۔ جہاں گھر میں پانچ کلو گھی لگتا تھا، اب آدھا پاؤ کا پیکٹ روزانہ لگ رہا ہے۔ مہینے کا حساب آپ خود لگا لیں۔ یوں صارف کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ اس نے کب اور کیسے اپنی جیب سے پہلے سے کہیں زیادہ رقم نکال دی۔

یہی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں جب بڑے پیمانے پر دیکھی جائیں تو سرمایہ دارانہ نظام کی اصل تصویر سامنے آتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے انسانیت کو پسماندگی میں ڈال کر امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اس نظام نے دنیا بھر کو اپنے چنگل میں یوں پھنسا رکھا ہے کہ انسان ہی انسانیت کا دشمن بن چکا ہے۔ ہر کوئی دوسرے کو برباد کر کے جینا چاہتا ہے۔ ضرورتیں بڑھتی جا رہی ہیں، سہولتوں کے نام پر نئے اخراجات پیدا کیے جا رہے ہیں اور انسان اپنی محدود آمدنی میں ان سب کو پورا کرنے کے لیے مسلسل بھاگ رہا ہے۔

اور جب یہی معاملہ کاروباری لوگوں سے نکل کر ریاستی معاملات تک پہنچتا ہے تو اس کے اثرات کہیں زیادہ وسیع ہو جاتے ہیں۔ اس نظام کی وجہ سے بیشتر ممالک کی حکومتیں بھی اپنے عوام کی خدمت کرنے کی بجائے مختلف ہتھکنڈوں سے اپنی ہی عوام کا خون نچوڑنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے سے باز نہیں آ رہیں۔ وطنِ عزیز میں اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں، اور سب سے نمایاں مثال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا معاملہ ہے۔

وطنِ عزیز ہی کی مثال لے لیں۔ کبھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمت سالانہ بجٹ میں بڑھتی یا کم ہوتی تھی۔ پھر بات مہینوں بعد تک پہنچی اور پھر ایک وقت آیا کہ ہر پندرہ دن کے بعد قیمتیں بڑھنے لگیں۔ اب یہ حال ہے کہ پتا بھی نہیں چلتا کہ چپکے سے روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں بڑھتی چلی جا رہی ہیں، اور کبھی کبھار چند پیسوں میں کمی کی بھی خبر آ جاتی ہے۔ یعنی جس چیز کی قیمت میں کبھی باقاعدہ تبدیلی کا اعلان ہوا کرتا تھا، وہ اب ہماری روزمرہ زندگی میں ایک مسلسل بدلتی ہوئی حقیقت بن چکی ہے۔

لیکن پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا معاملہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ اصل اثر تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب اس ایک اضافے کی لہر پورے معاشی نظام میں پھیل جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی یہ ایسی چالاکی ہے کہ بظاہر تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں سلو پائزن کی طرح اضافہ ہوتا نظر آتا ہے، مگر یہ ایسا بالکل نہیں۔ یہ ایک بہت بڑی اور باریک واردات ہے۔ صرف ڈیزل اور پٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے آمدورفت کے تمام ذرائع روزانہ کی بنیاد پر اپنے کرایوں میں اتار چڑھاؤ کے لیے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہر دکاندار اپنی مرضی کے ریٹ لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کرایۂ آمدورفت بڑھ گیا ہے۔

اس کی ایک مثال قاری جلیل صاحب(معلّم القرآن,دیٰ واحد اسکول) بتا رہے تھے کہ ایک مریض کی بیمار پُرسی کے لیے مغرب کی نماز کے بعد سرگودھا سے ایک معروف کمپنی کی گاڑی پر لاہور کے لیے روانہ ہوئے تو کرایہ کچھ اور تھا، جب کہ اسی رات بارہ بجے کے بعد اسی کمپنی کی بس سے واپسی کے لیے ٹکٹ خریدا تو کرایہ کچھ اور تھا۔ ایک ہی کمپنی، ایک ہی راستہ اور چند گھنٹوں کا فرق، مگر کرایے میں فرق! یہی وہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہیں جو آخرکار عام آدمی کی جیب پر بڑا بوجھ بن جاتی ہیں۔

اور جب یہ بوجھ مسلسل بڑھتا رہے تو عوام کا ردِعمل بھی آہستہ آہستہ بدل جاتا ہے۔ عوام بے چاری، جو کبھی سالانہ تیل، ڈیزل اور پٹرول کی معمولی سی بڑھوتری پر سڑکوں پر آ جایا کرتی تھی، حکومت کی اس سرمایہ دارانہ چالاکی کی بنا پر اب اُف بھی نہیں کر پا رہی۔ اب مسئلہ صرف یہ نہیں کہ قیمت بڑھ گئی ہے؛ مسئلہ یہ بھی ہے کہ قیمتیں اتنی بار اور اتنی معمولی مقدار میں بڑھتی ہیں کہ احتجاج کرنے کا موقع بھی پیدا نہیں ہوتا۔

اسی لیے اب صورتحال یہ ہے کہ ہر نیا اضافہ پچھلے اضافے کے ساتھ مل کر معمول کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے حافظ نعیم الرحمٰن صاحب کے دھرنوں اور ہڑتالوں کی دہائی کو بھی عوام ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے باہر نکالنے میں ایک پل کی بھی دیر نہیں لگاتی۔ شاید سرمایہ دارانہ نظام کی سب سے بڑی چالاکی یہی ہے کہ انسان کو ایک ہی دن میں بڑا بوجھ دے کر پریشان کرنے کے بجائے بوجھ کو اتنے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر دیا جائے کہ اسے بوجھ محسوس ہی نہ ہو۔ اور جب تک احساس ہوتا ہے، جیب بھی ہلکی ہو چکی ہوتی ہے اور احتجاج کی طاقت بھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں