روزانہ خوراک میں مناسب پروٹین نہ لینے کی سات علامات

یہ سات نشانیاں بتا سکتی ہیں کہ آپ کی غذا میں پروٹین کی مقدار مناسب نہیں ہے:

کمزوری یا تھکن: پروٹین کی کمی کی وجہ سے پٹھوں کی مقدار کم ہو سکتی ہے، جس سے جسمانی کمزوری اور تھکن محسوس ہوتی ہے۔

ورزش کے بعد سست ریکوری: پروٹین جسم کو امائنو ایسڈز فراہم کرتا ہے جو پٹھوں کی مرمت کے لیے ضروری ہیں۔ پروٹین کی کمی کی صورت میں ورزش کے بعد جسم کو صحت یاب ہونے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔یعنی نڈھالی رہتی ہے۔

بالوں کا پتلا ہونا یا ناخنوں کا کمزور ہونا: جب جسم مناسب مقدار میں پروٹینز جیسے کہ کیراٹن نہیں بنا پاتا تو اس کا نتیجہ بالوں کے گرنے، ناخنوں میں لکیروں اور جلد کے خشک اور کھردرا ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

بار بار بیمار ہونا: پروٹین کی کمی سے مدافعتی نظام کمزور ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے جسم وائرسز اور بیکٹیریا کا مقابلہ کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔

مسلسل بھوک لگنا: پروٹین آپ کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرا محسوس کرواتا ہے۔ اس کی کمی کی صورت میں کھانے کے بعد بھی آپ کو بھوک لگ سکتی ہے۔

زخموں کا آہستہ بھرنا: جسم کو خون کے جمنے اور کولیجن بنانے کے لیے پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ پروٹین کی کمی کی وجہ سے زخم، کٹ یا خراشیں دیر سے بھر سکتی ہیں۔

سوجن: ہاتھوں، پیروں یا دیگر اعضا میں سوجن (جسے ایڈیما کہتے ہیں) پروٹین کی کمی کی علامت ہو سکتی ہے، کیونکہ خون میں موجود پروٹینز جسم میں مائع کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ علامات کسی اور وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں، اس لیے اگر آپ کو تشویش ہو تو کسی ماہر صحت سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔

پروٹین کن چیزوں میں پایا جاتا ہے؟

پروٹین درج ذیل غذاؤں میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے:

گوشت (مرغی، گائے، بکرے کا گوشت)
مچھلی اور انڈے
دودھ، دہی اور پنیر
دالیں (مسور، چنا، ماش، مونگ وغیرہ)
چنے، لوبیا، سویا بین
خشک میوہ جات (بادام، اخروٹ، کاجو)
اناج (خاص طور پر گندم، جَو، دلیہ)
بیج (تِل، السی، سورج مکھی کے بیج)
روزانہ کتنی پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے؟

ایک عام بالغ انسان کو روزانہ تقریباً 0.8 گرام فی کلوگرام جسمانی وزن کے حساب سے پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔

مثال: اگر کسی شخص کا وزن 60 کلوگرام ہے، تو اسے تقریباً 48 گرام پروٹین روزانہ لینا چاہیے۔ اگر آپ جسمانی محنت کرتے ہیں، ورزش کرتے ہیں، یا حاملہ ہیں تو پروٹین کی مقدار میں اضافہ ضروری ہو سکتا ہے۔

Author

  • The standard lorem ipsum passage has been a printer's friend for centuries. Like stock photos today, it served as a placeholder for actual content. The original text comes from Cicero's philosophical work "De Finibus Bonorum et Malorum," written in 45 BC.

اپنا تبصرہ لکھیں