سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد آصف کے خلاف دائر شکایت خارج کرتے ہوئے کارروائی ختم کر دی ہے۔
شکایت میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ جسٹس محمد آصف نے اپنے کم عمر بیٹے سے متعلق ہٹ اینڈ رن کیس پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنے عہدے کا استعمال کیا۔
یہ واقعہ گزشتہ سال 2 دسمبر کو اسلام آباد میں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے قریب پیش آیا تھا، جہاں تیز رفتار سیاہ ایس یو وی نے اسکوٹر پر سوار دو لڑکیوں کو ٹکر ماری تھی۔ حادثے میں دونوں لڑکیاں جاں بحق ہو گئی تھیں۔
گاڑی مبینہ طور پر جسٹس محمد آصف کے بیٹے کے زیر استعمال تھی۔ واقعے کے بعد انہیں پولیس تحویل میں دیا گیا تھا۔
بعد ازاں 6 دسمبر 2025 کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے متاثرہ خاندانوں کی جانب سے عدالت میں معافی دینے کے بعد ان کی رہائی کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ پاکستان پینل کوڈ میں قصاص اور دیت سے متعلق دفعات کے تحت کیا گیا۔
سپریم جوڈیشل کونسل نے شکایت کا جائزہ لینے کے بعد اسے خارج کر دیا اور اس معاملے میں مزید کارروائی ختم کر دی۔